چار مقامات پر پیتل کے شمع دانوں اور قندیلوں سے روشنی کی جاتی تھی جبکہ خانہ کعبہ کے دروازے کو سفید دھات کے ایک شمع دان سے روشن کیا جاتا تھا
(ندائے مشرق ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۳مئی
مسجد الحرام میں روشنی کے نظام میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود کے دور میں تیز رفتار ترقی دیکھی گئی۔ ایک ایسا تاریخی مرحلہ جس میں روایتی تیل کے چراغوں سے برقی نظام کی جانب منتقلی کا آغاز ہوا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اس دور کے آغاز میں مسجد الحرام میں روشنی کا زیادہ تر انتظام صحن مطاف میں ہوتا تھا جس کے لیے تیل کے چراغ اور شمعیں استعمال کی جاتی تھیں۔
دھاتی ستون صحن میں نصب تھے جن کے اوپر کھجور کے درختوں کی شکل میں خوبصورت تانبے کے ڈیزائن بنائے گئے تھے اور ان کی شاخوں سے قندیلیں لٹکی ہوتی تھیں۔
مسجد الحرام کے برآمدوں کے ستونوں کے درمیان لوہے کی سلاخیں نصب کی جاتی تھیں تاکہ ان پر چراغوں کو لٹکایا جا سکے۔ اس وقت ان ستونوں پر۱۴۲۲قندیلیں لگائی جاتی تھیں جبکہ میناروں میں استعمال ہونے والی روشنی اس کے علاوہ تھی۔ چار مقامات پر پیتل کے شمع دانوں اور قندیلوں سے روشنی کی جاتی تھی جبکہ خانہ کعبہ کے دروازے کو سفید دھات کے ایک شمع دان سے روشن کیا جاتا تھا۔
مملکت کے اتحاد سے قبل مسجد الحرم میں انتہائی محدود پیمانے پر بجلی کے استعمال کا آغاز ہو چکا تھا۔ چند برقی قمقموں کے ذریعے مطاف کے گرد محدود برقی روشنی فراہم کی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً ۳کلو واٹ پاور والا چھوٹا جنریٹر استعمال ہوتا تھا۔
شاہ عبدالعزیز کے دور میں جب مسجد الحرام کی منظم دیکھ بھال کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے وہاں روشنی کے نظام کو اہمت دی گئی۔ شعبان۱۳۴۷ ہجری میں شاہ عبدالعزیز کے حکم پر تمام چراغ تبدیل کیے گئے اور برقی قمقموں کی تعداد۳۰۰ سے بڑھا کر ایک ہزار کر دی گئی تاکہ مطاف اور برآمدوں کو مکمل طورپر روشن کیا جا سکے۔ اسی برس رمضان المبارک میں مسجد الحرام کو روشن کرنے کا انتظام مکمل کیا گیا۔
شاہ عبدالعزیز نے سال ہجری۱۳۴۹میں مسجد الحرام میں روشنی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے۱۳ہارس پاور کا نیا برقی جنریٹر منگوانے کا حکم صادر کیا جس سے روشنی کے معیار میں مزید بہتری آئی۔ اسی دوران مسجد الحرام کی تزئین و آرائش کے لیے بھی کئی تعمیراتی کام بھی کیے گئے۔
ترقی کا یہ سفر جاری رہا اور سال ہجری۱۳۵۵میں روزنامہ ام القریٰ‘ کی رپورٹ کے مطابق شاہ عبدالعزیز نے کروسلی کمپنی کا تیار کردہ ایک جدید برقی جنریٹر بطور تحفہ فراہم کیا۔ مسجد الحرام کے برآمدوں میں سنگِ مرمر کے ستون تعمیر کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ روشنی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
سال ہجری۱۳۶۹ میں مکہ مکرمہ میں بجلی کمپنی کے قیام کا فرمان جاری ہوا۔ اس اقدام سے محلوں میں موجود مختلف چھوٹے جنریٹروں پر انحصار ختم ہونے لگا۔ بعدازاں۱۳۷۳ہجری کے آغاز میں تنعیم کے مقام پر پہلے مرکزی بجلی گھر کا افتتاح کیا گیا۔
شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن نے تصاویر اور تاریخی حوالوں کے ذریعے ان تمام ادوار کو محفوظ کیا ہے جن میں قندیلوں اور چراغوں سے برقی قمقموں تک کا سفر شامل ہے۔
۔۔۔۔۔۔
راجوری میں بڑے سرچ
آپریشن کے دوران انکاؤنٹر شروع
جموں؍۲۳مئی
جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں ہفتہ کو مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم کے دوران دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان انکاؤنٹر شروع ہو گیا، حکام نے بتایا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں دو سے تین دہشت گردوں کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر جاری بیان میں کہا’’آج تقریباً۱۱:۳۰بجے راجوری کے گمبھیر مغلاں علاقے میں پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ انٹیلی جنس بنیادوں پر مشترکہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہوا‘‘۔
بیان میں کہا گیا کہ فورسز نے فوری اور منظم کارروائی کی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
وائٹ نائٹ کور کے مطابق، ’’فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ علاقے کا مؤثر محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ ’آپریشن شیرووالی‘کے نام سے جاری کارروائی تاحال جاری ہے‘‘۔
حکام کے مطابق دوریمل-گمبھیر مغلاں پٹی میں مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات موصول ہونے کے بعد محاصرہ اور تلاشی مہم شروع کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ پولیس، فوج اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی مشترکہ ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لے کر وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیاں شروع کیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ علاقے میں اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے اور آخری اطلاعات موصول ہونے تک آپریشن جاری تھا۔










