’بی جے پی کے پاس اس کے علاوہ کوئی بہتر کام نہیںہے، ہمیں اُن کا جواب دینے کی ضرورت نہیں‘
ندائت مشرق خبر
سری نگر؍۲۲مئی
جموں و کشمیر میں اُس وقت سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا جب بی جے پی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا مذاق اُڑانے کی غرض سے سوشل میڈیا پر ’عمر عبداللہ لاپتہ ہیں‘ کے پوسٹر گردش میں لائے۔
بی جے پی کی جموں و کشمیر یونٹ نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر یہ ’’لاپتہ‘‘ پوسٹر شیئر کرتے ہوئے عمر عبداللہ کے بارے میں معلومات طلب کیں اور دعویٰ کیا کہ وہ ’’گزشتہ دس دنوں سے لاپتہ ہیں‘‘۔
زعفرانی جماعت کی یہ تنقید اُن خبروں کے درمیان سامنے آئی ہے جن کے مطابق وزیر اعلیٰ ذاتی دورے پر جموں و کشمیر سے باہر ہیں۔
ان پوسٹروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بی جے پی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ زعفرانی جماعت کے پاس ’’اس کے علاوہ کوئی بہتر کام نہیں‘‘ ہے۔
حضرت بل درگاہ میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا، ’’اُن کی اپنی مہمات ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ہمیں اُن کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔‘‘
فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر میں کانگریس کے ساتھ اتحاد میں دراڑ کی افواہوں کو بھی مسترد کردیا۔انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ ہمارے دشمن ایسی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ اتحاد برقرار ہے، کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
ایندھن کی سپلائی کے جاری بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ مغربی ایشیا کا بحران جلد ختم ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ رُک جائے گی، اور خدا نے چاہا تو ہم ان مشکلات سے نکل آئیں گے۔‘‘
جموں کے سدھرا علاقے میں گوجر اور بکروال خاندانوں کے مکانات کی حالیہ مسماری کے تنازع پر نیشنل کانفرنس صدر نے کہا کہ اُن کی جماعت یا ریاستی حکومت کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں۔
این سی صدر نے کہا، ’’ہم اس میں شامل نہیں ہیں۔ یہ انہوں نے (لیفٹیننٹ گورنر) کیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ صرف سدھرا ہی نہیں بلکہ جموں کے دیگر علاقوں میں بھی گوجروں پر ایسے حملے ہوئے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ سرحدوں پر یہی لوگ سب سے بڑے ہمدرد اور معاون تھے۔‘‘
اپوزیشن پی ڈی پی کی جانب سے اس الزام پر کہ جموں و کشمیر حکومت اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ماڈل پر چل رہی ہے، فاروق عبداللہ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ساری گڑبڑ انہی لوگوں نے پیدا کی ہے۔‘‘
ڈاکٹر فاروق نے کہا، ’’انہوں نے آرٹیکل۳۷۰؍اور۳۵؍اے کو ختم کیا۔ ہماری ریاست کی تباہی کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں۔ اب یہی شور مچا رہے ہیں۔ ان کا کام کیا ہے؟ مجھے افسوس ہے کہ انہیں شرم بھی نہیں آتی۔ یہ ہمیں تباہی کی طرف لے گئے اور اب ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ پہلے اپنے اندر جھانکیں کہ انہوں نے یہاں کے لوگوں کو کن مشکلات میں ڈالا۔‘‘










