ایجنسیز
ہندواڑہ؍۲۲مئی
پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے جمعہ کو جموں کے سدھرا علاقے میں چلائی گئی انہدامی مہم کے حوالے سے جموں و کشمیر حکومت پر ’ملی بھگت‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ بااثر افراد کی بدعنوانی کو نظر انداز کرکے منتخب انداز میں کارروائیاں کر رہی ہے۔
لون نے یہ ریمارکس ہندواڑہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران ادا کیے، جہاں وہ رکن پارلیمان انجینئر رشید کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے ماور گئے تھے۔
عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے لون نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے اسمبلی اجلاس کے دوران یہ معاملہ اٹھایا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ محکمہ جنگلات کو انہدامی کارروائیاں انجام دینے سے روکے۔انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے کئی وزراء بدعنوانی میں ملوث ہیں اور اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔
لون نے کہا’’اگر کوئی عوامی نمائندہ کسی وزیر پر بدعنوانی کے الزامات عائد کرتا ہے تو یہ اے سی بی کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تفصیلات طلب کرے اور معاملے کی تحقیقات کرے‘‘۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ انسدادِ بدعنوانی ایجنسیاں صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں جبکہ بااثر سیاست دانوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔انہوں نے کہا’’پٹواریوں اور نچلے درجے کے اہلکاروں کو پکڑنا آسان ہے۔ میں اے سی بی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ بدعنوان وزراء کے خلاف بھی کارروائی کرے‘‘۔
لون نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ عمر عبداللہ حکومت ’زمینی سطح پر غائب‘ ہے اور دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے تقریبات میں زیادہ مصروف ہیں۔










