نئی دہلی، 19 مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں سے آوارہ کتوں کو ہٹانے سے متعلق اپنے پچھلے حکم میں تبدیلی کرنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نس بندی کے بعد بھی ان کتوں کو دوبارہ اسی جگہ پر نہیں چھوڑا جائے گا عدالت عظمی نے حکم پر عمل نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی وارننگ بھی دی جسٹس وکرم ناتھ، سندیمپ مہتا اور این وی انجاریا کی بنچ نے نومبر 2025 میں جاری ہدایات میں ترمیم کا مطالبہ کرنے والی مختلف درخواستوں کو خارج کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اسکولوں، ہسپتالوں، کھیل کے میدانوں، بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں جیسے بھیڑ بھاڑ والے عوامی مقامات سے پکڑے گئے آوارہ کتوں کو شیلٹر ہومز میں رکھا جائے اور انہیں دوبارہ اسی جگہ پر نہ چھوڑا جائے۔
بنچ نے اینیمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی) کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو بھی خارج کر دیا۔ اعلیٰ عدالت نے بچوں پر کتوں کے حملوں سے جڑے "بے حد تشویشناک واقعات” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچوں کو سنگین طور پر زخمی کیا گیا ہے، بزرگوں پر حملے ہوئے ہیں اور یہاں تک کہ غیر ملکی مسافروں کو بھی کتوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اعلیٰ عدالت نے لوگوں کی زندگی کی حفاظت یقینی بنانے میں ناکام رہنے کے لیے ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ سپریم کورٹ نے انسانی زندگی کے لیے خطرہ پیدا کرنے والےاور خطرناک کتوں” کو یوتھینیزیا (رحم دلی کی موت) دینے کی اجازت بھی دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں عدالت عظمی نے عوامی مقامات سے آوارہ کتوں کو ہٹانے، انہیں شیلٹر ہومز میں بھیجنے اور سڑک پر صرف مقررہ جگہوں پر ہی کتوں کو کھانا دینے کی اجازت سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔ اس کے بعد جانوروں سے محبت کرنے والوں اور جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے ان احکامات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی درخواستیں دائر کی تھیں۔ بنچ نے سڑکوں پر کتوں کو کھانا کھلانے پر بھی روک لگانے کی ہدایات جاری کی تھیں، سوائے ان جگہوں کے جو اس کے لیے طے کی گئی ہیں۔ بعد میں، جانوروں کے حقوق کے گروپوں کی جانب سے ان ہدایات کو واپس لینے کے لیے کئی درخواستیں دائر کی گئیں۔










