حال ہی میں جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے اچن میں۳۶۱کروڑ روپے کے انٹیگریٹڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبے کی منظوری ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ مارچ۲۰۲۷تک سائنسی بنیادوں پر کچرے کی مکمل پروسیسنگ شروع ہو جائے گی۔ بظاہر یہ ایک انتظامی فیصلہ ہے، مگر حقیقت میں یہ سرینگر کے مستقبل، شہری نظم و نسق اور سیاسی سنجیدگی کا امتحان ہے۔
اچن لینڈ فل سائٹ کی کہانی نئی نہیں۔ تقریباً چار دہائی قبل۱۹۸۰کی دہائی کے آخر میں یہ مقام ویٹ لینڈز اور زرعی زمین پر قائم کیا گیا۔ اس علاقے میں کبھی سرسبز کھیت لہلہاتے تھے اور مقامی خاندان نسلوں سے زراعت سے وابستہ تھے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی زمین زہریلے فضلے، تعفن اور سیاہ پانی کا مرکز بن گئی۔ انتظامیہ نے شہر کا کچرا یہاں منتقل تو کر دیا لیکن کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ مسلسل بڑھتی آبادی اور شہری توسیع کے ساتھ اس مسئلے کو کس طرح سائنسی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
گزشتہ پانچ سے چھ برسوں میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ خاص طور پر شہرِ خاص اور ڈاؤن ٹاؤن سرینگر کے رہائشیوں کے لیے زندگی اجیرن بن گئی۔ گرمیوں میں لوگ کھڑکیاں کھولنے سے قاصر رہے، بچوں میں سانس کی بیماریاں بڑھنے لگیں اور بزرگ رات بھر بدبو کے باعث بے چین رہنے لگے۔ یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر گیا۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں متعلقہ ادارے یا تو خاموش تماشائی بنے رہے یا رسمی بیانات اور کاغذی دعوؤں تک محدود رہے۔ سرکاری مشینری حرکت میں ضرور نظر آتی تھی مگر اس کے اقدامات زمینی سطح پر کہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ بالآخر نیشنل گرین ٹریبونل تک پہنچا، جس نے اس بحران کو محض میونسپل لاپروائی نہیں بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی تباہی کے طور پر دیکھا۔
این جی ٹی کی مداخلت نے اس معاملے کو ایک نیا رخ دیا۔ جولائی۲۰۲۴میں مشترکہ کمیٹی نے اچن کا دورہ کیا جس میں سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ، نیشنل ویٹ لینڈز کمیٹی، جے اینڈ کے پولوشن کنٹرول کمیٹی اور سرینگر انتظامیہ کے افسران شامل تھے۔ معائنے کے دوران جو صورتحال سامنے آئی وہ نہایت تشویشناک تھی۔ کچرے کی پروسیسنگ کے کئی نظام ناکارہ پڑے تھے، لیچیٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس بند تھے، زیرزمین پانی کی نگرانی کے لیے قائم بورویل غیر فعال تھے اور خطرناک فضلہ براہ راست انچار جھیل کی طرف بہایا جا رہا تھا۔ یہ انکشاف کسی ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ پورے شہری نظم و نسق کے انہدام کی علامت تھا۔
سرینگر میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر اتنے برسوں تک اس صورتحال کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟ شہر روزانہ تقریباً۱۶۰۰ٹن کچرا پیدا کر رہا ہے اور اندازہ ہے کہ۲۰۲۸تک یہ مقدار۱۹۰۰ٹن یومیہ تک پہنچ جائے گی۔ اس کے باوجود پروسیسنگ کی استعداد انتہائی محدود رہی۔ کئی کروڑ روپے کی لاگت سے نصب مشینیں ناکارہ ہو گئیں، مگر نہ ان کی مرمت ہوئی اور نہ ہی ذمہ داروں کا تعین کیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ نیشنل گرین ٹریبونل نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے سرینگر میونسپل کارپوریشن پر بھاری ماحولیاتی جرمانہ عائد کیا اور سابق کمشنروں کے خلاف کارروائی کا آغاز بھی کیا۔ یہ ایک غیر معمولی قدم تھا کیونکہ کشمیر میں اکثر انتظامی ناکامیوں پر ذمہ داری کا تعین نہیں ہو پاتا۔ لیکن اچن معاملے نے یہ ثابت کر دیا کہ جب ادارے مسلسل غفلت برتیں تو عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
اب جبکہ حکومت نے۳۶۱کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے، امید کی ایک نئی کرن ضرور پیدا ہوئی ہے۔ اگر یہ منصوبہ دیانتداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ نافذ کیا گیا تو سرینگر واقعی اس بحران سے نکل سکتا ہے۔ بائیو مائننگ کے ذریعے۱۱ء۵ لاکھ میٹرک ٹن پرانے کچرے کو ختم کرنا ایک بڑا چیلنج ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
تاہم اصل سوال صرف فنڈز کا نہیں بلکہ نیت اور عملدرآمد کا ہے۔ کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی ایک طویل تاریخ ایسی بھی ہے جہاں اعلانات تو بڑے بڑے کیے گئے مگر نتائج نہ ہونے کے برابر نکلے۔ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ زمینی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اچن منصوبہ بھی اگر بدعنوانی، سستی یا غیر سنجیدہ نگرانی کا شکار ہوا تو یہ رقم بھی ضائع ہو جائے گی اور سرینگر ایک اور دہائی ماحولیاتی عذاب میں گزارنے پر مجبور ہو گا۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کشمیر میں ماحولیاتی مسائل کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی رہی ہے۔ سیاسی مباحث میں سڑکیں، بجلی، سیاحت اور سیکورٹی تو نمایاں رہتے ہیں مگر کچرا، آلودگی، جھیلوں کا سکڑاؤ اور ویٹ لینڈز کی تباہی جیسے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ کسی بھی شہر کی اصل ترقی کا اندازہ اس کے شہری نظام، صفائی، پانی اور ماحول سے لگایا جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ شہروں نے اپنی کامیابی صرف بلند عمارتوں یا خوبصورت سڑکوں سے حاصل نہیں کی بلکہ مضبوط شہری اداروں، سائنسی منصوبہ بندی اور سخت احتساب کے ذریعے حاصل کی۔ سرینگر بھی اگر واقعی ایک جدید اور پائیدار شہر بننا چاہتا ہے تو اسے تصویر کے خوبصورت رخ سے آگے بڑھ کر اپنے اندرونی بحرانوں کا سامنا کرنا ہو گا۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت اور سرینگر میونسپل کارپوریشن نے کم از کم اس مرحلے پر سنجیدگی دکھائی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہیں ثابت کرنا ہو گا کہ یہ منصوبہ محض سیاسی تشہیر نہیں بلکہ ایک حقیقی اصلاحی اقدام ہے۔
ساتھ ہی عوامی نگرانی بھی ناگزیر ہے۔ شہری سماج، ماحولیاتی کارکنان، میڈیا اور عدلیہ کو مسلسل اس منصوبے پر نظر رکھنی ہو گی تاکہ فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ کیونکہ شہری نظام صرف سرکاری اعلانات سے نہیں بلکہ احتساب، شفافیت اور مسلسل عملدرآمد سے بہتر بنتے ہیں۔
اچن آج صرف ایک لینڈ فل سائٹ نہیں بلکہ کشمیر کی حکمرانی کا امتحان بن چکا ہے۔ یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا سرینگر واقعی ایک ذمہ دار، جدید اور ماحول دوست شہر بننے کی سمت بڑھ رہا ہے یا پھر خوبصورت تصویروں کے پیچھے سڑتا ہوا بحران چھپانے کی روایت جاری رہے گی۔
اگر مارچ۲۰۲۷تک واقعی۱۱ء۵ لاکھ میٹرک ٹن پرانا کچرا ختم ہو جاتا ہے اور سائنسی بنیادوں پر ویسٹ مینجمنٹ کا نظام قائم ہو جاتا ہے تو یہ سرینگر کی تاریخ میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو گی۔ لیکن اگر یہ منصوبہ بھی ماضی کی طرح فائلوں اور بیانات میں دفن ہو گیا تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہ کریں۔





