ایندھن کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور تمام مقامات پر سپلائی کی تجدید کا عمل بخوبی جاری ہے:کوآرڈینیٹر، آئل انڈسٹری
عوام گھبراہٹ میں غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور معمول کے مطابق ایندھن کا استعمال جاری رکھیں‘بلا خلل سپلائی یقینی بنائی جا رہی ہے‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۸مئی
اسٹیٹ لیول کوآرڈینیٹر، آئل انڈسٹری ‘ ہمانشو شرما نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایندھن کی مجموعی سپلائی کی صورتحال مستحکم اور اطمینان بخش ہے۔
آج یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹرمینلز، ڈپوؤں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس سمیت پوری سپلائی چین بغیر کسی رکاوٹ کے مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔
شرما نے کہا کہ پبلک سیکٹر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مطلع کیا ہے کہ جموں و کشمیر بھر میں ضروری پٹرولیم مصنوعات، بشمول پٹرول، ڈیزل اور مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، کی دستیابی معمول کے مطابق اور بلا تعطل برقرار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور تمام مقامات پر سپلائی کی تجدید کا عمل بخوبی جاری ہے۔
شرما نے مزید بتایا کہ گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے اور پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اس کی سپلائی معمول کے مطابق برقرار رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صارفین تک بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئل انڈسٹری لاجسٹکس، ذخائر کی نقل و حرکت اور ریٹیل آپریشنز کے حوالے سے قریبی تال میل برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ پورے خطے میں ایندھن کی مسلسل دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
شرما نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں غیر ضروری خریداری سے گریز کریں اور معمول کے مطابق ایندھن کا استعمال جاری رکھیں۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ ایندھن کی دستیابی سے متعلق درست اور مصدقہ معلومات کے لیے صرف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اطلاعات پر ہی بھروسہ کریں۔
دریں اثنا وزارتِ پیٹرولیم کی ایک سینئر افسر نے پیر کے روز کہا کہ بھارت نے امریکی پابندیوں میں نرمی (ویور) سے قطع نظر روسی تیل کی خریداری جاری رکھی ہے اور مستقبل میں بھی تجارتی فائدے اور توانائی سلامتی کی ضروریات کے مطابق یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔
وزارتِ پیٹرولیم میں جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’روس کے حوالے سے امریکی ویور کے بارے میں میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہم روس سے پہلے بھی تیل خرید رہے تھے، ویور کے دوران بھی خریدتے رہے اور اب بھی خرید رہے ہیں۔‘‘
شرما نے کہا کہ بھارت کی خام تیل خریداری کے فیصلے بنیادی طور پر تجارتی عوامل اور مناسب سپلائی کی دستیابی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے لیے خریداری میں بنیادی چیز تجارتی مفاد ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خام تیل کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں ہے اور طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے مناسب مقدار پہلے ہی یقینی بنائی جا چکی ہے۔
روسی بحری خام تیل کی فروخت اور ترسیل کی اجازت دینے والی امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی۱۶ مئی کو ختم ہو گئی۔ یہ دوسرا موقع ہے جب واشنگٹن نے اس رعایت کو بغیر کسی وضاحت کے ختم ہونے دیا ہے۔
یہ جنرل لائسنس پہلی بار مارچ کے وسط میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور اپریل میں اس میں توسیع کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد عالمی توانائی منڈیوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا تھا، جس سے تیل کی سپلائی میں تاریخی خلل پیدا ہوا تھا۔
شرما نے کہا، ’’ویور ہو یا نہ ہو، اس سے دستیابی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘‘۲۰۲۲سے رعایتی روسی خام تیل بھارت کی تیل درآمدات کا اہم حصہ بن گیا ہے، جب یوکرین پر روسی حملے کے بعد مغربی ممالک نے روس پر سخت پابندیاں عائد کیں اور روس کی روایتی برآمدی منڈیاں متاثر ہوئیں۔
دنیا میں خام تیل کے تیسرے بڑے درآمد کنندہ اور صارف بھارت نے کم قیمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے روسی تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے ملکی ریفائنریوں کو عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے میں مدد ملی۔
امریکہ اور یورپی ممالک نے فروری۲۰۲۲ میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد روس پر وسیع پابندیاں عائد کیں، تاہم روسی تیل پر براہِ راست پابندی کبھی نہیں لگائی گئی۔
حالیہ مہینوں میں امریکہ نے روسی اداروں، جن میں بڑے خام تیل سپلائرز روس نیفٹ اور لوک آئل، بحری جہازوں اور مالیاتی ذرائع شامل ہیں، پر پابندیاں عائد کیں، لیکن روسی تیل پھر بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ روس بھارت کے لیے ایک اہم سپلائر برقرار رہا، جبکہ خریداری کے دوران اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کسی پابندی زدہ فروخت کنندہ یا ثالث، پابندی زدہ جہاز یا غیر مجاز مالیاتی و انشورنس ذرائع کا استعمال نہ ہو۔
اس صورتحال کے باعث گزشتہ برس کچھ عرصے کے لیے روسی تیل کی خریداری میں کمی آئی، تاہم بعد میں ملنے والی رعایتوں کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے دوبارہ خریداری بڑھا دی۔
اعداد و شمار فراہم کرنے والی کمپنی ’’کپلر‘‘ کے مطابق، مئی میں بھارت کو روسی تیل کی درآمدات اوسطاً۱۹ لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو تقریباً ریکارڈ سطح ہے۔ ان اعداد و شمار میں وہ ترسیلات بھی شامل ہیں جو عارضی امریکی رعایت کے تحت کی گئی تھیں، جو اب اختتام پذیر ہو چکی ہے۔
روس سے خام تیل کی مسلسل درآمدات ایسے وقت میں جاری ہیں جب برینٹ خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں۵۰فیصد سے زیادہ بلند ہیں، جس سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے دوران بھارت کی سستا تیل حاصل کرنے کی حکمت عملی مزید مضبوط ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے قریب مستقبل میں روسی خام تیل سے دور ہونے کے امکانات کم ہیں۔ البتہ دستاویزی عمل اور نگرانی کو مزید سخت کیے جانے کی توقع ہے، نہ کہ تیل کے ذرائع میں کسی بنیادی تبدیلی کی۔










