سچ تو یہ ہے کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی بلیاں کتوں سے زیادہ خطرناک اور خونخوار ہیں؟ ہم یہ سوال اس لیے پوچھ رہے ہیں کیونکہ خبر یہ ہے کہ کشمیر میں ان کتے کمینوں سے زیادہ بلیوں نے لوگوں کو کاٹا ہے۔ وہی بلیاں جنہیں لوگ پیار سے اپنے گھروں میں رکھتے ہیں، ان کا لاڈ کرتے ہیں، انہیں کھانا اور دودھ دیتے ہیں۔ اور یہی احسان فراموش بلیاں ہیں جنہوں نے اس محبت اور شفقت کو بھلا کر لوگوں کو کاٹ کھایا، انہیں ستایا، تنگ کیا اور ہاں، ڈرایا بھی۔عام طور پر بلیاں ایسی نہیں ہوتیں۔ بلیاں لوگوں کو کاٹتی نہیں بلکہ ان کے پیار کے بدلے میں پیار دیتی ہیں۔ لیکن اب یہ باغی ہو گئی ہیں۔ اگر یہ باغی نہ ہوتیں تو انسانوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند نہ کرتیں، بالکل بھی نہ کرتیں۔ مگر انہوں نے ایسا کیا، اور اس لیے کیا کہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اور یقیناً ہوتا ہے۔بلیوں کو ان کتے کمینوں کی بری صحبت لگ گئی، اور اسی بری صحبت کا نتیجہ ہے کہ بلیاں بھی وہی کام کرنے لگی ہیں جو کتے کرتے ہیں، یعنی صبح شام انسانوں کو کاٹنا۔ بزرگ ہوں یا بچے، مرد ہوں یا عورتیں، یہ کتے سب کو کاٹتے ہیں، اور اب بلیوں نے بھی یہی عادت سو فیصد سیکھ لی ہے۔بلیاں صرف کشمیر میں نہیں ہوتیں، اور نہ ہی کتے صرف کشمیر کے حصے میں آئے ہیں۔ دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی کتے اور بلیاں موجود ہیں، لیکن وہاں کے کتے کمینے نہیں ہوتے۔ بالکل بھی نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ کمینگی پر اتر آئے تو ان کا حال بے حال کر دیا جائے گا۔ اسی لیے وہ اپنی اوقات میں رہتے ہیں، سو فیصد رہتے ہیں۔اور صاحب، ظاہر سی بات ہے کہ جب کتے اپنی اوقات میں رہیں گے تو بلیوں کی کیا مجال کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کریں۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا، اور اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ان بلیوں کو اگرچہ کتوں کی صحبت حاصل ہے، لیکن وہ کتے کمینے نہیں، اس لیے بلیاں بھی شریف رہتی ہیں۔کشمیر کی بلیوں کے بالکل برعکس، جہاں کی بلیاں ان کتے کمینوں کو دیکھ دیکھ کر بگڑ گئی ہیں اور باغی بھی ہو چکی ہیں۔ ہے نا؟



