’ ناروے نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کا ساتھ دے کر ’’سچی دوستی‘‘ کا ثبوت دیا جس کا میں مشکور ہوں ‘
اوسلو (ناروے)؍۱۸مئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے باعث ان کا مجوزہ دورۂ ناروے مؤخر کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں بھارت کے ساتھ یکجہتی اور ’’سچی دوستی‘‘ کا مظاہرہ کرنے پر ناروے حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
ناروے کے وزیر اعظم یوناس گار اسٹور کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے شاندار استقبال پر اظہارِ تشکر کیا اور کہا کہ وہ ناروے کے عوام کو ان کے یومِ دستور کی تاریخی تقریبات پر مبارکباد دینے کے خواہاں ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’میں شاندار استقبال پر شکر گزار ہوں۔ کل ناروے کے یومِ دستور کے موقع پر میں ناروے کے عوام کو مبارکباد پیش کروں گا۔‘‘
اپنے دورے میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس تبدیلی کی براہِ راست وجہ پہلگام دہشت گرد حملہ تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میں پہلے ناروے نہیں آ سکا کیونکہ پہلگام کا واقعہ پیش آیا تھا۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے اس دوران ناروے کی جانب سے بھارت کو دی گئی سفارتی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ناروے نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کا ساتھ دے کر ’’سچی دوستی‘‘ کا ثبوت دیا۔
بھارت اور ناروے کے دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل کے طور پر وزیر اعظم مودی آج اوسلو پہنچے، جو گزشتہ۴۳برسوں میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا ناروے کا پہلا دورہ ہے۔ سویڈن کے دورے کے بعد شروع ہونے والا یہ دو روزہ سرکاری دورہ ان کے جاری غیر ملکی دورے کا چوتھا مرحلہ ہے، جس کا مقصد بھارت اور ناروے کے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔
اوسلو میں وزیر اعظم مودی کی مصروفیات میں انڈیا-نورڈک سمٹ کے تیسرے اجلاس میں شرکت اور اہم دوطرفہ مذاکرات شامل ہیں۔ اپنے قیام کے دوران وہ ناروے کے شاہ ہیرالڈ پنجم اور ملکہ سونیا سے بھی ملاقات کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے پانچ ملکی دورے کے آخری مرحلے کے طور پر اگلا دورہ اٹلی کا کریں گے۔ اس سے قبل وہ متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز اور سویڈن کا دورہ کر چکے ہیں۔
وزیر اعظم کے بیان کے پس منظر میں۲۲؍اپریل۲۰۲۵کو ہونے والا پہلگام دہشت گرد حملہ ہے، جس میں۲۶؍افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں داخل ہو کر۲۶شہریوں کو قتل کر دیا تھا۔
قدرتی حسن کے لیے مشہور پہلگام اس وقت خون میں نہا گیا جب پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردوں نے متعدد بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے قتل سے قبل متاثرین سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھ گچھ بھی کی، جس کے بعد کئی خاندان غم اور صدمے کا شکار ہو گئے۔
اس حملے کے بعد بھارت نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت فیصلہ کن کارروائی کی۔ بھارتی مسلح افواج نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
۷مئی ۲۰۲۵کو شروع کیے گئے ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بھارتی افواج نے لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور حزب المجاہدین سے وابستہ نو بڑے دہشت گرد لانچ پیڈز تباہ کرنے اور ۱۰۰سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
اس کے بعد پاکستان کی جانب سے ڈرون حملے اور گولہ باری کی گئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ بھارت نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے لاہور اور گوجرانوالہ کے قریب ریڈار تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
بھاری نقصان اٹھانے کے بعد پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) نے بھارتی ڈی جی ایم او سے رابطہ کیا، جس کے بعد۱۰مئی کو جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔اس کے علاوہ ’’آپریشن مہادیو‘‘ کو بھی گزشتہ برس فوج اور سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی مشترکہ کامیابی قرار دیا گیا، جس میں پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو تلاش کر کے ہلاک کیا گیا۔
غیر فوجی اقدامات کے طور پر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور پاکستان کے ساتھ تمام دوطرفہ تجارت ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ (ایجنسیاں)










