دنیا کی ترقی کا انجن بننے کی خواہش رکھتا ہے‘اولمپکس کی میزبانی کرنا چاہتا ہے، عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بننا چاہتا ہے:مودی
ایجنسیز
دی ہیگ؍۱۶مئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز بھارت کو ’مواقع کی سرزمین‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے اور اس کی امنگیں اب صرف اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں۔
دی ہیگ میں بھارتی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت بڑے خواب دیکھ رہا ہے اور اس کے نوجوان آسمان کو چھونے کی خواہش رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے تقریباً۴۰منٹ طویل خطاب میں حاضرین کی تالیوں کے درمیان کہا، ’’آج بھارت یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں صرف تبدیلی نہیں چاہیے، بلکہ ہمیں بہترین اور تیز ترین بننا ہے۔ اسی لیے جب بھارت میں امنگیں لامحدود ہیں تو کوششیں بھی لامحدود ہوتی جا رہی ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا، ’’آج کا بھارت غیر معمولی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب اے آئی سمٹ کی میزبانی کی، اور اس سے قبل کامیابی کے ساتھ جی۲۰ سربراہ اجلاس بھی منعقد کیا۔
مودی نے کہا، ’’یہ کوئی ایک بار کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ آج کے بھارت کی پہچان بن چکا ہے۔‘‘انہوں نے بھارت کے اسٹارٹ اپ نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں بھارت کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ نیٹ ورک ہے۔
وزیر اعظم نے کہا، ’’آج بھارت کی امنگیں اپنی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں۔ بھارت اولمپکس کی میزبانی کرنا چاہتا ہے، عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بننا چاہتا ہے، سبز توانائی میں قیادت حاصل کرنا چاہتا ہے اور دنیا کی ترقی کا انجن بننے کی خواہش رکھتا ہے۔‘‘
مودی نے یاد دلایا کہ۲۰۱۴میں بھارت میں صرف چار یونیکورن کمپنیاں تھیں، جبکہ آج ان کی تعداد تقریباً۱۲۵ ہو چکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج ہمارے اسٹارٹ اپس اے آئی، دفاع اور خلائی شعبوں میں نمایاں کام کر رہے ہیں۔ تحقیق اور اختراع کی یہ ثقافت مزید وسعت اختیار کر رہی ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی امنگوں پر مبنی ترقی اس کی جمہوریت کو بھی مضبوط کر رہی ہے۔ انہوں نے مختلف ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری میں۸۰سے۹۰فیصد تک ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔
مودی نے کہا، ’’خواتین کی شرکت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان ملک کی ہر ریاست میں نظر آ رہا ہے۔ آج بھارت میں ووٹرز پُرجوش ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہر سال ووٹنگ کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعتوں پر طنز کرتے ہوئے حاضرین سے پوچھا کہ کیا مشہور اسنیک ’’جھالمُڑی‘‘ دی ہیگ تک بھی پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز ٹیولپ کے پھولوں کے لیے مشہور ہے جبکہ بھارت کنول کے پھول کے لیے جانا جاتا ہے۔
مودی نے کہا، ’’ٹیولپ اور کنول دونوں ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ چاہے جڑیں پانی میں ہوں یا مٹی میں، انسان خوبصورتی اور طاقت دونوں حاصل کر سکتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت اور نیدرلینڈز عالمی سطح پر باہمی تعاون کر سکتے ہیں اور عالمی منصوبوں کے حصول کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ بہت سی تہذیبیں ختم ہو گئیں، لیکن بھارت کی متنوع ثقافت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
مودی نے کہا، ’’نسلیں بدل گئیں، ممالک بدل گئے، ماحول بدل گیا، لیکن خاندانی اقدار نہیں بدلیں۔‘‘
کووڈ وبا اور عالمی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دہائی دنیا کے لیے چیلنجز کی دہائی بنتی جا رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا، ’’اگر ان حالات کو جلد تبدیل نہ کیا گیا تو گزشتہ کئی دہائیوں کی کامیابیاں بہہ جائیں گی۔‘‘
وزیر اعظم مودی جمعہ کے روز اپنے پانچ ملکی دورے کے دوسرے مرحلے کے تحت نیدرلینڈز پہنچے تھے، جہاں ان کا مقصد تجارت، ٹیکنالوجی، دفاع اور قابلِ تجدید توانائی جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ (ایجنسیاں)










