وفاقی وزیر داخلہ‘امت شاہ کی جانب سے دنیا بھر میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف یکساں قوانین، خفیہ معلومات کے تبادلے اور منشیات کے بڑے سرغناؤں کی حوالگی سے متعلق دیا گیا حالیہ بیان نہ صرف عالمی سطح پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ جموں کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں بھی غیر معمولی معنویت رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب جموں کشمیر میں منشیات کا استعمال ایک سماجی ناسور کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، مرکزی حکومت کی جانب سے۲۰۴۷تک ملک کو منشیات سے پاک بنانے کا عزم ایک امید افزا پیش رفت ہے۔
جموں کشمیر گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی سماجی اور معاشی تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ امن و امان کی صورتحال میں بہتری، سیاحت کا فروغ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقیاتی منصوبوں میں تیزی جیسے عوامل نے خطے میں مثبت فضا قائم کی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک خاموش خطرہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے اور وہ ہے نوجوان نسل میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان۔ یہ مسئلہ اب صرف چند شہروں یا مخصوص طبقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دیہی علاقوں، تعلیمی اداروں اور یہاں تک کہ کم عمر نوجوانوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جموں کشمیر کی جغرافیائی حیثیت اسے منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل کے راستوں کے قریب رکھتی ہے۔ سرحد پار سرگرم عناصر اور منظم جرائم پیشہ گروہ نہ صرف منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں بلکہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو تخریبی سرگرمیوں میں استعمال کیے جانے کے خدشات بھی بارہا ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ نے منشیات کے مسئلے کو محض قانون و انتظام کا معاملہ قرار دینے کے بجائے قومی سلامتی، سماجی استحکام اور نوجوان نسل کے مستقبل سے جوڑا۔
جموں کشمیر میں گزشتہ ماہ شروع کی گئی ’’نشہ مکت جموں کشمیر‘‘ مہم اسی پس منظر میں ایک اہم قدم ہے۔ سو دنوں پر مشتمل اس مہم کا مقصد نہ صرف منشیات کے عادی افراد کی باز آبادکاری ہے بلکہ سماج میں بیداری پیدا کرنا، نوجوانوں کو اس لعنت سے دور رکھنا اور والدین و تعلیمی اداروں کو اس جنگ میں شریک کرنا بھی ہے۔ یہ مہم اس لحاظ سے قابل ستائش ہے کہ اس میں پولیس، سول انتظامیہ، صحت محکمہ، تعلیمی ادارے، مذہبی و سماجی تنظیمیں اور مقامی کمیونٹیز سب کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم صرف مہمات چلانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ منشیات کے خلاف جنگ ایک طویل، منظم اور مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر ایک طرف سپلائی چین کو توڑنا ضروری ہے تو دوسری طرف ڈیمانڈ کو کم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ نوجوان آخر منشیات کی طرف کیوں راغب ہو رہے ہیں؟ بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی مسائل، سوشل میڈیا کا منفی اثر، دوستوں کا دباؤ اور مستقبل کے حوالے سے بے یقینی جیسے عوامل اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ اس لیے صرف گرفتاریاں اور چھاپے کافی نہیں، بلکہ سماجی و نفسیاتی سطح پر بھی سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ مرکزی حکومت کی حمایت اور اشتراک کے بغیر جموں کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ چونکہ منشیات کی اسمگلنگ اکثر بین الریاستی اور بین الاقوامی نیٹ ورکس کے ذریعے انجام دی جاتی ہے، اس لیے مقامی سطح پر کارروائیوں کے ساتھ ساتھ قومی اور عالمی سطح پر تعاون بھی ضروری ہے۔امیت شاہ کی جانب سے عالمی تعاون پر زور دینا اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر داخلہ کا یہ کہنا کہ دنیا کو ’’نارکو نیٹ ورکس‘‘ اور ’’نارکو ٹیرر اسٹیٹس‘‘ دونوں کے خلاف بیک وقت لڑنا ہوگا، دراصل ایک سنجیدہ انتباہ ہے۔ منشیات کی تجارت اب صرف جرائم پیشہ عناصر کا کاروبار نہیں رہی بلکہ یہ دہشت گردی، غیر قانونی ہتھیاروں کی خرید و فروخت اور سماجی انتشار سے بھی جڑ چکی ہے۔ جموں کشمیر جیسے حساس خطے میں اس خطرے کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ جموں کشمیر میں حالیہ عرصے کے دوران پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے منشیات فروشوں کے خلاف متعدد کارروائیاں انجام دی ہیں۔ بڑی مقدار میں ہیروئن، چرس اور دیگر ممنوعہ اشیا ضبط کی گئی ہیں، جبکہ کئی نیٹ ورکس کو بے نقاب بھی کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود زمینی حقیقت یہ ہے کہ منشیات کی دستیابی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ کی جڑیں کہیں زیادہ گہری ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کے عادی افراد کو صرف مجرم نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں علاج اور بحالی کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ بحالی مراکز کی تعداد میں اضافہ، ماہر نفسیات کی دستیابی، اسکولوں اور کالجوں میں کونسلنگ سسٹم، کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کا فروغ اور مذہبی و سماجی رہنماؤں کی شمولیت اس جنگ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری بھی یہاں بہت اہم ہو جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نوجوانوں میں رویوں کی تبدیلی، تنہائی، جارحیت یا تعلیمی کارکردگی میں کمی جیسے آثار کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اگر خاندان بروقت توجہ دے تو کئی نوجوان اس دلدل میں گرنے سے بچ سکتے ہیں۔ اسی طرح میڈیا کو بھی سنسنی سے ہٹ کر تعمیری بیداری پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک سماج اجتماعی طور پر اس لعنت کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا، اس وقت تک مکمل کامیابی ممکن نہیں۔ اس ضمن میں مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے، پنچایتیں، نوجوانوں کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی سب کو اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔
اگر واقعی۲۰۴۷تک بھارت کو منشیات سے پاک ملک بنانا ہے تو جموں کشمیر جیسے خطوں کو اس مہم کا مرکز بنانا ہوگا، کیونکہ یہاں نوجوان آبادی کا تناسب زیادہ ہے اور مستقبل کی تعمیر انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان نسل ہی کسی خطے کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ اگر یہی نسل منشیات کی نذر ہو جائے تو ترقی، امن اور خوشحالی کے تمام خواب ادھورے رہ جائیں گے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ جموں کشمیر میں جاری ’’نشہ مکت‘‘ مہم کو محض ایک سرکاری پروگرام کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک عوامی تحریک بنایا جائے۔ مرکزی حکومت کے عزم، مقامی انتظامیہ کی سنجیدگی اور عوامی تعاون کے امتزاج سے ہی اس خطرناک لعنت کا مقابلہ ممکن ہے۔ اگر آج موثر اقدامات کیے گئے تو آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے میں سانس لے سکیں گی، ورنہ یہ مسئلہ مستقبل میں ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔





