کیمسٹری پروفیسر کوچنگ کلاسز میں سوالات شیئر کرتا رہا: سی بی آئی/مختلف علاقوں سے اب تک۸؍افراد گرفتار
نئی دہلی؍۱۵مئی
سی بی آئی نے نیٹ(این ای ای ٹی) پیپر لیک معاملے کی تحقیقات کے تین دن کے اندر اہم پیش رفت کرتے ہوئے پونے سے ایک پروفیسر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے لیک شدہ پرچے کا اصل ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق لاتؤر سے تعلق رکھنے والے کیمسٹری کے ماہر پروفیسر پی وی کلکرنی، جو کئی برسوں سے نیٹ سوالیہ پرچہ تیار کرنے والی پینلز سے وابستہ رہے ہیں، کو پونے میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔
سی بی آئی کے ترجمان نے کہا’’پی وی کلکرنی کو تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد پونے سے گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔
تحقیقات کے مطابق کلکرنی نے خفیہ مواد تک اپنی رسائی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپریل کے آخری ہفتے میں اپنے گھر پر خصوصی کوچنگ کلاسز منعقد کیں، جہاں انہوں نے طلبہ کو وہ سوالات، آپشنز اور جوابات لکھوائے جو بعد میں۳مئی کو منعقدہ نیٹ یو جی امتحان میں شامل پائے گئے۔
سی بی آئی کے بیان کے مطابق’’اپریل۲۰۲۶کے آخری ہفتے میں کلکرنی نے ایک اور ملزمہ منیشا واگھمارے کی مدد سے طلبہ کو جمع کیا، جسے۱۴مئی کو سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا‘‘۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ طلبہ نے ان خصوصی کلاسز میں شرکت کے لیے لاکھوں روپے ادا کیے، جہاں وہ سوالات اپنی نوٹ بکس میں درج کرتے تھے اور بعد میں یہی سوالات اصل نیٹ یو جی پرچے سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے پائے گئے۔
سی بی آئی ٹیموں نے کیمسٹری پرچے کے لیک ہونے کے اصل ذریعہ اور ان درمیانی افراد کا بھی سراغ لگا لیا ہے، جو طلبہ کو جمع کرنے اور ان سے بھاری رقم وصول کرنے میں ملوث تھے۔
ترجمان کے مطابق گزشتہ۲۴گھنٹوں کے دوران سی بی آئی نے ملک بھر میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور کئی اہم دستاویزات، الیکٹرانک آلات اور موبائل فون ضبط کیے ہیں۔ ان تمام اشیا کا فارنزک اور تکنیکی تجزیہ جاری ہے۔
جمعرات کو سی بی آئی نے اہلیانگر سے دھننجے لوکھنڈے اور پونے سے اس کی ساتھی منیشا واگھمارے کو گرفتار کیا تھا۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ لوکھنڈے نے مبینہ طور پر پرچہ واگھمارے سے حاصل کیا اور اسے ناسک کے شُبھم خیرنار کو دیا، جس نے بعد میں یہ پرچہ یش یادو تک پہنچایا، جہاں سے یہ مزید پھیلایا گیا۔
سی بی آئی نے جے پور سے منگی لال بیوال، وکاس بیوال اور دنیش بیوال جبکہ گڑگاؤں سے یش یادو اور ناسک سے شُبھم خیرنار کو بھی گرفتار کیا ہے۔
تحقیقات کے مطابق خیرنار نے اپریل میں یادو کو اطلاع دی تھی کہ منگی لال بیوال اپنے چھوٹے بیٹے کے لیے لیک شدہ سوالات حاصل کرنے کے بدلے۱۰ سے۱۲لاکھ روپے ادا کرنے کو تیار ہے۔الزام ہے کہ خیرنار نے یادو کے ساتھ۵۰۰ سے۶۰۰سوالات شیئر کیے تھے تاکہ ایک معروف میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل کیے جا سکیں۔
سی بی آئی کے مطابق منگی لال بیوال نے یہ پرچہ یادو سے حاصل کیا، جو اس کے بڑے بیٹے وکاس بیوال کا راجستھان کے سیکر میں واقع نیٹ کوچنگ سینٹر سے جاننے والا تھا۔
حکام نے بتایا کہ منگی لال بیوال اور یادو کے درمیان۱۰لاکھ روپے میں معاہدہ طے پایا تھا۔ بعد میں منگی لال نے یہ پرچہ اپنے بیٹے اور دیگر رشتہ داروں میں بھی تقسیم کیا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ یادو نے وکاس بیوال سے کہا تھا کہ مزید نیٹ امیدوار تلاش کیے جائیں تاکہ سوالات فروخت کر کے کچھ رقم واپس حاصل کی جا سکے۔
ڈیجیٹل آلات کے تجزیے میں سی بی آئی کو مبینہ چیٹس، لیک شدہ سوالیہ پرچے اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد حاصل ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق حذف شدہ ڈیٹا کی بازیابی کے لیے ان آلات کا فارنزک معائنہ بھی کیا جائے گا۔
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے۳ئی کو منعقدہ امتحان کی منسوخی کے بعد ایف آئی آر درج کر کے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔
نیٹ امتحان بھارت کے۵۵۱شہروں اور بیرون ملک۱۴ مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔ اس امتحان کے لیے تقریباً۲۳ لاکھ امیدواروں نے رجسٹریشن کرایا تھا اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ملک بھر میں اس کا انعقاد کیا تھا۔
این ٹی اے کے مطابق امتحان کے چار روز بعد، یعنی۷مئی کی شام کو مبینہ بدعنوانی سے متعلق معلومات موصول ہوئیں، جنہیں اگلی صبح مرکزی ایجنسیوں کے حوالے کر دیا گیا تاکہ آزادانہ جانچ اور ضروری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
جے پور، گڑگاؤں، ناسک، پونے اور اہلیانگر سے آٹھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ گرفتار شدگان میں سے پانچ ملزمان کو جمعرات کے روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں سات روزہ ریمانڈ پر تحویل میں دے دیا گیا۔ (ایجنسیاں)










