ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۵مئی
دہلی پولیس نے جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے ایک۳۸سالہ شخص کو گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اُس نے کشمیری سیب کی سپلائی کے نام پر دہلی کے ایک تاجر سے پانچ لاکھ روپے سے زائد کی دھوکہ دہی کی۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت ۳۸ سالہ اسحاق احمدا ڈار کے طور پر ہوئی ہے، جو تقریباً ایک دہائی سے مفرور تھا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے مسلسل اپنے ٹھکانے اور موبائل نمبر تبدیل کرتا رہا۔
یہ معاملہ۲۰۱۶میں سامنے آیا تھا، جب مہندر پارک پولیس اسٹیشن میں تعزیراتِ ہند کی دفعات۴۲۰ (دھوکہ دہی) اور۱۲۰ بی (مجرمانہ سازش) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ شکایت میں کہا گیا تھا کہ احمدار اور اُس کے ایک ساتھی نے سیب کی سپلائی کے کاروبار کے نام پر متاثرہ شخص کو جعلی کاروباری معاہدے میں پھنسایا۔
کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر پولیس‘سنجیو کمار یادو نے بتایا کہ ملزم نے مختلف تاریخوں پر شکایت کنندہ سے۵لاکھ ۸ہزار۷۰۰روپے وصول کیے اور یقین دہانی کرائی کہ کشمیری سیب کی کھیپ فراہم کی جائے گی، مگر نہ سیب پہنچائے گئے اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔
تحقیقات کے دوران ملزم فرار ہو گیا، جس کے بعد اس کی گرفتاری پر۵۰ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا۔پولیس کے مطابق کیس کی حساسیت اور پیچیدگی کے پیش نظر ملزم کی تلاش کا کام کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا۔
ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جس نے جموں و کشمیر میں تکنیکی تجزیہ اور زمینی جانچ کی۔ ٹیم نے اننت ناگ جا کر ملزم کے پرانے پتوں کی تصدیق کی اور اُس کے فروٹ کاروبار اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے وابستہ افراد سے دوبارہ رابطہ قائم کیا۔
پولیس نے سابق ساتھیوں، ٹرانسپورٹروں اور مقامی رابطوں سے خفیہ پوچھ گچھ بھی کی، جبکہ ملزم سے بالواسطہ طور پر منسلک کئی موبائل نمبروں کا تجزیہ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق مسلسل تکنیکی نگرانی اور خفیہ اطلاع کی بنیاد پر احمدار کو۱۳مئی کو اننت ناگ کے فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ۲۰۱۱ میں ایک مشترکہ جاننے والے کے ذریعے شکایت کنندہ کے رابطے میں آیا تھا اور بعد میں کشمیر سے سیب کی سپلائی کا کاروبار شروع کیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ ادائیگیوں کے تنازع کے بعد اُس نے جان بوجھ کر شکایت کنندہ سے رابطہ ختم کر دیا تھا۔
اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اُس نے اپنی رہائش تبدیل کر لی اور اننت ناگ کے دوسرے علاقے میں رہتے ہوئے چھوٹے پیمانے پر تھوک کاروبار جاری رکھا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے گرفتاری سے بچنے کے لیے بار بار سم کارڈ تبدیل کیے، ایک ہی موبائل نمبر کو زیادہ دیر استعمال نہیں کیا اور اپنے پرانے سماجی حلقے اور رہائش گاہ سے فاصلہ بنائے رکھا۔
معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ (ایجنسیاں)










