(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۴ مئی
جموں و کشمیر اسمبلی کی ہاؤس کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی تقسیم پر تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے جمعرات کو کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جلد ایک اجلاس منعقد کرے گی جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پارٹی ان کمیٹیوں کا بائیکاٹ کرے گی یا نہیں۔
ایک مقامی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی تقسیم غیر منصفانہ ہے اور اس میں نیشنل کانفرنس اور اس کے اتحادیوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
شرما نے کہا’’ہم فیصلہ کریں گے کہ آیا کمیٹیوں کی کارروائی سے دور رہنا ہے یا نہیں‘‘۔
قائدِ حزبِ اختلاف نے الزام لگایا کہ اسمبلی کو نیشنل کانفرنس کا ہیڈکوارٹر بنایا جا رہا ہے اور اپوزیشن کی آواز کو دبایا جا رہا ہے تاکہ’نااہل‘ حکومت کی ناکامیوں اور غلطیوں کو اجاگر نہ کیا جا سکے۔
شرما نے اسپیکر پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ متناسب نمائندگی کے اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’اسپیکر کھلے عام حکمران اتحاد کا ساتھ دے کر جمہوری اصولوں کو کمزور کر رہے ہیں‘‘۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ میں اپوزیشن کو نہ ہونے کے برابر نمائندگی دینا ’’جموں و کشمیر کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین‘‘ہے۔
شرما نے سوال اٹھایا کہ۵۴؍اراکینِ اسمبلی رکھنے والے حکمران اتحاد کو آٹھ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کیسے دی جا سکتی ہے، جبکہ۲۹نشستیں رکھنے والی بی جے پی کو صرف ایک چیئرمین شپ دی گئی۔
انہوں نے کہا’’جو لوگ اس فیصلے کا دفاع کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ حقائق کو اپنی سہولت کے مطابق توڑ مروڑنے کے بجائے پہلے متناسب نمائندگی کے اصول کو پڑھیں۔‘‘










