ایجنسیز
اننت ناگ؍۱۴مئی
منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیا کے نیٹ ورک کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے اننت ناگ پولیس نے بدھ کے روز جنوبی کشمیر کے لارنوں علاقے میں ایک بڑی انسدادِ تجاوزات کارروائی انجام دی۔
گوورَن لارنو میں ریونیو اور فاریسٹ محکموں کے اشتراک سے چلائی گئی مشترکہ مہم کے دوران پولیس نے دو مبینہ بدنام زمانہ منشیات فروشوں کی غیر قانونی دکان نما تعمیرات کو منہدم کر دیا۔ ان کی شناخت آصف علی پالا ولد علی محمد پالا اور نثار احمد کسانہ ولد بشیر احمد کسانہ، ساکنان متھنڈو لارنوں، کے طور پر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ تعمیرات گوورَن علاقے میں جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضہ کر کے کھڑی کی گئی تھیں، جس کے بعد جاری انسدادِ منشیات مہم کے تحت انہیں منہدم کیا گیا۔
پولیس نے کہا کہ یہ اقدام ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف منشیات فروشوں بلکہ جرائم سے حاصل شدہ آمدنی سے قائم کیے گئے مبینہ غیر قانونی اثاثوں اور ڈھانچوں کو بھی ختم کرنا ہے۔
ضلع کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اننت ناگ پولیس نے خبردار کیا کہ منشیات فروشی یا اس سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
ادھر جموں و کشمیر پولیس نے بین الریاستی منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک سے مبینہ تعلق رکھنے والے دو مشتبہ منشیات فروشوں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ بات ایک سرکاری عہدیدار نے جمعرات کو بتائی۔
کولگام ضلع کے قاضی گنڈ تھانے کی پولیس نے منشیات کے کاروبار کا پردہ فاش کرتے ہوئے چھُرَٹ نزد کنڈ موڑ پر تعینات ناکہ پارٹی کے ذریعے ایک مشتبہ شخص شکو ر خان، ساکن دہلی اور حال مقیم خانہ بل بٹ پورہ، کو گرفتار کیا۔
تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے تقریباً۶ء۹ گرام ہیروئن جیسا مادہ برآمد ہوا، جس کے بعد اس کے خلاف نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (این ڈی پی ایس) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
مسلسل تحقیقات کے دوران پولیس نے ایک خاتون منشیات فروش ریکھا، ساکن باوانہ دہلی اور حال مقیم سنگم کُلگام، سے تعلق کا سراغ لگایا۔
قابلِ اعتماد معلومات اور تلاشی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پولیس ٹیم نے اس کے کرائے کے مکان پر چھاپہ مارا۔
ترجمان کے مطابق تلاشی کے دوران پولیس نے بستر کے نیچے بنائے گئے خفیہ زیرِ زمین خانے سے تقریباً۸ء۴گرام ہیروئن، سرنجیں، ایلومینیم فوائل اور چوری شدہ سامان برآمد کیا۔ یہ خانہ اس انداز میں تیار کیا گیا تھا تاکہ اس کا پتہ نہ چل سکے۔
ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ملزمہ نے اعتراف کیا کہ وہ علاقے بھر میں۲۰۰سے زائد گاہکوں اور منشیات فروشوں کو نشہ آور اشیا فراہم کرتی رہی ہے۔ترجمان کے مطابق ملزمہ نے یہ بھی بتایا کہ منشیات کے کاروبار سے حاصل کیے گئے تقریباً۲۵ لاکھ روپے گزشتہ سال اس کی جھگی میں لگنے والی آگ میں جل کر خاکستر ہو گئے تھے۔
ملزمہ نے مزید انکشاف کیا کہ اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی مبینہ طور پر کشمیر میں منشیات فروشی میں ملوث ہیں۔ان انکشافات کی بنیاد پر پولیس نے میر بازار میں ایک اور چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے اس کے ایک بیٹے صدام کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان نے کہا کہ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور تمام روابط کی نشاندہی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہے۔










