ایجنسیز
سرینگر؍۱۴مئی
جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اسپیشل کرائم ونگ کشمیر نے بدھ کے روز زمین فراڈ کے ایک مبینہ معاملے میں سری نگر اور بڈگام اضلاع کے مختلف مقامات پر رہائشی مکانوں کی تلاشی لی۔
یہ کارروائی ایف آئی آر نمبر۰۶/۲۰۲۶کے سلسلے میں انجام دی گئی۔
حکام کے مطابق یہ مقدمہ تعزیراتِ ہند کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ ہُمہامہ، بڈگام کے ایک شہری کی تحریری شکایت پر درج کیا گیا، جس میں الزام لگایا گیا کہ سولنہ، سری نگر کے رہنے والے طارق احمد صوفی نے نارکارہ، سری نگر میں واقع زمین فروخت کرنے کا جھانسہ دے کر اس سے لاکھوں روپے دھوکہ دہی سے حاصل کیے۔
تحقیقات کے دوران کرائم برانچ نے ابتدائی طور پر پایا کہ ملزم طارق احمد صوفی ولد غلام احمد صوفی، ساکن تُلسی باغ سری نگر، نے طارق احمد وانی ولد محمد عبداللہ وانی، ساکن نارکارہ نزد یونانی اسپتال بڈگام، کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر اُس وقت کے پٹواری کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات تیار کیں اور انہیں زمین کے فراڈ سودے کو انجام دینے کے لیے استعمال کیا۔
تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق ملزمان، جو مبینہ طور پر زمین کے بروکر کے طور پر کام کر رہے تھے، نے شکایت کنندہ کو دھوکہ دینے اور لین دین سے وابستہ رقم ہڑپنے کے لیے مجرمانہ سازش رچی۔
تحقیقات کے تسلسل میں ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی موجودگی میں تلاشی کارروائیاں انجام دی گئیں تاکہ جرم سے متعلق مواد اور دیگر شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
ادھر کرائم برانچ نے عوام کو دھوکہ باز عناصر سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات کی اطلاع براہِ راست ایس ایس پی، اسپیشل کرائم ونگ کشمیر کو دی جائے۔










