ایجنسیز
جموں؍۱۴ مئی
جموں کشمیر کی وزیرِ تعلیم سکینہ ایتو نے جمعرات کو پیپر لیک معاملات کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف، چاہے وہ کتنے ہی بااثر یا طاقتور کیوں نہ ہوں، سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
جموں شہر کے ایک اسکول میں تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا’’میری عاجزانہ درخواست ہے‘ چاہے سپریم کورٹ سے ہو یا مرکز سے‘ کہ اس معاملے (پیپر لیک) کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔ جو بھی اس میں ملوث پایا جائے، چاہے وہ کتنا ہی بااثر یا طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بچوں کے مستقبل کے ساتھ اس طرح کھیلنے کی جرات نہ کرے‘‘۔
ایتو نے کہا کہ پیپر لیک کی مسلسل خبریں نہایت تشویشناک ہیں اور ان کا طلبہ اور ان کے خاندانوں پر شدید اثر پڑتا ہے، جو برسوں تک مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔
وزیر تعلیم نے کہا’’ذرا تصور کیجیے کہ ان بچوں پر کیا گزرتی ہوگی جو سخت محنت کرتے ہیں، امتحان دیتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں کہ ان کے پرچے بہت اچھے ہوئے ہیں اور اب وہ امتحان میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پھر اچانک انہیں خبر ملتی ہے کہ پرچہ لیک ہو گیا ہے‘‘۔
موصوفہ نے کہا کہ والدین بھی شدید اذیت سے گزرتے ہیں کیونکہ وہ بھی اپنے بچوں کے لیے راتیں جاگتے ہیں، ان کی پڑھائی میں مدد کرتے ہیں اور انہیں ذہنی دباؤ سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ امتحان میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ایتو نے کہا’’اس میں برسوں کی محنت شامل ہوتی ہے۔ بعض طلبہ تو دوسری بار بھی امتحان دیتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار کامیاب ہو جائیں۔ لیکن جب یہ خبر آتی ہے کہ پرچہ لیک ہو گیا ہے تو یہ سب سے بڑی بدقسمتیوں میں سے ایک ہوتی ہے‘‘۔
وزیر نے الزام لگایا کہ قصوروار افراد ’’میرٹ کو خرید رہے ہیں، زندگیاں تباہ کر رہے ہیں اور طلبہ کو ذہنی دباؤ میں دھکیل رہے ہیں‘‘۔
وزیرِ اعظم، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے قافلوں کو ایندھن بچانے کے مقصد سے مختصر کرنے کے فیصلے کے بارے میں ایتو نے کہا کہ ایسے اقدامات کو وسیع تر قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ایتو نے کہا’’اگر ملک کو کسی مشکل کا سامنا ہے، اور اگر ہم کسی بھی طرح اس مشکل کو کم کرنے یا اس میں مدد کر سکتے ہیں، تو ہم سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘‘۔
وزیر سرکاری قافلوں کو مختصر کر کے ایندھن کے استعمال میں کمی لانے سے متعلق انتظامی فیصلوں پر پوچھے گئے سوالات کا جواب دے رہی تھیں۔
تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کرنے کے حکومتی منصوبے سے متعلق سوال پر ایتو نے کہا کہ اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم اس پر غور کریں گے۔ فی الحال اس حوالے سے کچھ طے نہیں ہوا ہے










