سرینگر؍۱۱مئی
پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے پیر کے روز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور نیشنل کانفرنس (این سی) کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو راجیہ سبھا کی ایک نشست ’’تحفے‘‘ میں دینے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ جو پارٹیاں ہر کسی کو بی جے پی قرار دے کر شور مچا رہی تھیں، انہی جماعتوں نے بی جے پی کو راجیہ سبھا کی نشست جیتنے میں مدد دی۔
لون نے الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی کی نیت ٹھیک نہیں تھی اور اسی لیے اس نے اپنے ارکانِ اسمبلی کے ووٹوں کی تصدیق کے لیے کوئی مجاز ایجنٹ مقرر نہیں کیا، کیونکہ وہ مبینہ طور پر غلط کام کرنا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا’’ایجنٹ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کرے کہ ارکانِ اسمبلی نے کس کے حق میں ووٹ دیا۔ آر ٹی آئی سے انکشاف ہوا کہ پی ڈی پی نے کوئی ایجنٹ مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ نتیجتاً تینوں ارکان نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے کیونکہ ووٹ چیک کرنے والا کوئی موجود نہیں تھا‘‘۔
لون نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی سوال کیا کہ کیا انہیں پی ڈی پی کی جانب سے ایجنٹ مقرر نہ کیے جانے کی معلومات نہیں تھیں۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا’’عمر عبداللہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں آر ٹی آئی کے ذریعے معلوم ہوا کہ پی ڈی پی نے کوئی ایجنٹ مقرر نہیں کیا تھا، اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ڈی پی نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔ کیا واقعی ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کو یہ بات آر ٹی آئی کے ذریعے معلوم ہوئی کہ پی ڈی پی نے ایجنٹ مقرر نہیں کیا تھا‘‘؟
لون نے کہا کہ راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔










