وادیٔ کشمیر ایک بار پھر موسمِ بہار کے ساتھ ایک ایسے مسئلے کی گرفت میں ہے جو برسوں سے عوامی صحت، شہری صفائی اور ماحولیاتی توازن کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ سری نگر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ان دنوں روسی پاپلر کے درختوں سے نکلنے والی سفید روئی نما پھاہیاں فضا میں تیرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ڈل گیٹ سے حضرت بل، ہارون سے شہر کے دیگر علاقوں تک یہ منظر بظاہر برف باری جیسا دلکش محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک سنگین ماحولیاتی اور طبی بحران کی علامت بن چکا ہے۔ یہ سفید پھاہیاں نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ سانس، الرجی اور دمہ کے مریضوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
کشمیر میں ہر سال مارچ سے مئی تک الرجی کے مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسپتالوں میں گلے کی خراش، آنکھوں میں جلن، چھینکوں اور سانس لینے میں دشواری جیسی شکایات کے ساتھ مریضوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق وادی کی تقریباً ایک تہائی آبادی اس موسمی الرجی سے متاثر ہوتی ہے، جبکہ بچے اور بزرگ سب سے زیادہ خطرے میں رہتے ہیں۔ اگرچہ عوام کی توجہ ان سفید پھاہیوں کی طرف جاتی ہے، مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ ان نظر نہ آنے والے پولن ذرات سے ہوتا ہے جو فضا میں پھیل کر انسانی صحت پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ان پھاہیوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ انہیں سانس کی بیماریوں اور الرجی کی یاد دلاتے ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات اب تک دیکھنے میں نہیں آئے۔۲۰۱۵میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے عوامی صحت کے پیش نظر مادہ روسی پاپلر درختوں کو مرحلہ وار کاٹنے کا حکم دیا تھا، مگر ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ حکم پوری طرح نافذ نہیں ہو سکا۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً مہمات چلائی گئیں اور چند درخت کاٹے بھی گئے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں روسی پاپلر آج بھی وادی کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بہار کے ساتھ یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ آخر انتظامیہ اس مسئلے کے مستقل حل میں کیوں ناکام رہی؟ کیا عدالتی احکامات صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں؟ یا پھر متعلقہ اداروں میں سنجیدگی کا فقدان ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ماحولیاتی منصوبہ بندی میں دور اندیشی اور تسلسل دونوں کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ روسی پاپلر درخت ماضی میں تیزی سے بڑھنے اور لکڑی کی فراہمی کے مقصد سے بڑے پیمانے پر لگائے گئے تھے، مگر وقت کے ساتھ ان کے مضر اثرات سامنے آتے گئے۔ اس کے باوجود متبادل درختوں کی شجر کاری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت محض وقتی صفائی مہمات یا علامتی اقدامات پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایک جامع ماحولیاتی پالیسی مرتب کرے۔ ایسے درختوں کی شجر کاری کو فروغ دیا جانا چاہیے جو ماحول دوست ہوں، مقامی آب و ہوا سے مطابقت رکھتے ہوں اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہوں۔ چنار، دیودار، بید اور دیگر مقامی اقسام نہ صرف کشمیر کی قدرتی شناخت کا حصہ ہیں بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ اگر منصوبہ بندی کے ساتھ مرحلہ وار روسی پاپلر کو ہٹا کر ان مقامی درختوں کی شجر کاری کی جائے تو آنے والے برسوں میں اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری بھی بے حد ضروری ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ صرف سفید پھاہیاں ہی مسئلے کی جڑ نہیں بلکہ فضا میں موجود دوسرے پولن ذرات اور آلودگی بھی الرجی کو بڑھاتے ہیں۔ ماسک کا استعمال، گھروں کی صفائی، کھڑکیاں بند رکھنا اور حساس افراد کا غیر ضروری طور باہر نکلنے سے گریز کرنا وقتی احتیاطی تدابیر ضرور ہیں، مگر مستقل حل نہیں۔ مستقل حل صرف ایک مربوط ماحولیاتی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شہر کی خوبصورتی اور صفائی پر اس مسئلے کے منفی اثرات نمایاں ہیں۔ سڑکوں، نالیوں، پارکوں اور بازاروں میں جمع ہونے والی سفید روئی نما تہیں شہر کو بدنظمی اور غفلت کا منظر پیش کرتی ہیں۔ جب یہ پھاہیاں گرد و غبار اور کچرے کے ساتھ مل جاتی ہیں تو نہ صرف نکاسیٔ آب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ شہری ماحول بھی آلودہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ سیاحتی اعتبار سے بھی یہ صورتحال وادی کے مثبت تاثر کو متاثر کرتی ہے، کیونکہ کشمیر کی شناخت ایک صاف، سرسبز اور پُرسکون خطے کی رہی ہے۔
انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض موسمی پریشانی سمجھنے کے بجائے ایک عوامی صحت کے بحران کے طور پر دیکھے۔ محکمۂ صحت، بلدیاتی ادارے، جنگلاتی محکمے اور ماحولیاتی ماہرین مل کر ایک مربوط ایکشن پلان ترتیب دیں۔ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی، مرحلہ وار درختوں کی تبدیلی، متبادل شجر کاری، عوامی آگاہی مہمات اور اسپتالوں میں الرجی مراکز کے قیام جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اگر اب بھی سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
کشمیر پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں، بے ہنگم شہری توسیع اور آلودگی جیسے کئی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے میں روسی پاپلر کا مسئلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی ماحول کے ساتھ غیر متوازن چھیڑ چھاڑ کس طرح انسانی زندگی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم رکھنا ہر ذمہ دار حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں اکثر منصوبہ بندی وقتی ضرورتوں کے تحت کی جاتی ہے، جس کے طویل مدتی نتائج بعد میں عوام کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عدالتی احکامات کو سنجیدگی سے نافذ کرے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کرے۔ اگر آج فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تو آنے والی نسلوں کو اس موسمی عذاب سے بچایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر ہر بہار کے ساتھ کشمیر کے آسمان میں اڑتی یہ سفید روئی ہمیں انتظامی غفلت، ماحولیاتی بے حسی اور نامکمل وعدوں کی یاد دلاتی رہے گی۔





