’یہ بھارت کی عظیم جمہوریت پر اعتماد کا دن ہے، کارکردگی کی سیاست پر اعتماد کا دن ہے، استحکام کے عزم پر اعتماد کا دن ہے‘
مغربی بنگال میں عوام کی طاقت غالب رہی‘ آسام میں زبردست مینڈیٹ‘لوگوں نے اچھی حکمرانی کو اپنے لئے منتخب کیا :مودی
(ندائے مشرق ڈیسک)
سرینگر؍۴مئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی تاریخی جیت کے ساتھ کمل اب گنگوتری سے گنگا ساگر تک کھل چکا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ انتقام نہیں بلکہ تبدیلی کے لیے کام کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاست کا مستقبل خوف پر غالب رہے۔
مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد آج شام نئی دہلی میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ یہ کئی حوالوں سے ایک خاص دن ہے جو ملک کے روشن مستقبل کی نوید دیتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا’’یہ دن بھارت کی عظیم جمہوریت پر اعتماد کا دن ہے، کارکردگی کی سیاست پر اعتماد کا دن ہے، استحکام کے عزم پر اعتماد کا دن ہے، اور ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے پر اعتماد کا دن ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’میں مغربی بنگال، آسام، پڈوچیری، تمل ناڈو اور کیرالہ کے عوام کو نمن کرتا ہوں‘‘۔
مودی نے کہا کہ گزشتہ سال۱۴نومبر کو جب بہار کے انتخابی نتائج آئے تھے تو انہوں نے اسی مقام سے بی جے پی کارکنوں سے کہا تھا کہ گنگا بہار سے گنگا ساگر تک بہتی ہے۔انہوں نے کہا’’اور آج مغربی بنگال میں فتح کے ساتھ، گنگوتری (اتراکھنڈ) سے گنگا ساگر (مغربی بنگال) تک، یہ صرف کمل کے مکمل طور پر کھلنے کی علامت ہے۔ اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال‘ان ریاستوں میں جو ماں گنگا کے کنارے واقع ہیں‘آج بی جے پی-این ڈی اے کی حکومتیں ہیں‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی بنگال میں اس جمہوری تہوار میں خوف نہیں بلکہ جمہوریت جیتی ہے۔انہوں نے کہا’’جب بی جے پی بنگال میں جیتی ہے تو’ بدلا‘ نہیں بلکہ ’بدلاؤ‘ کی بات ہونی چاہیے، ’بھَے(خوف) ‘ نہیں بلکہ ’بھوشیہ‘ (مستقبل) کی بات ہونی چاہیے‘‘۔
مودی نے کہا کہ جیت اور ہار جمہوریت اور سیاست کا فطری حصہ ہیں، لیکن پانچ ریاستوں کے عوام نے دنیا کو دکھایا ہے کہ بھارت کو جمہوریت کی ماں کیوں کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہا’’جمہوریت ہمارے لیے صرف ایک نظام نہیں بلکہ ہماری رگوں میں بہنے والی روایات کا دریا ہے۔ آج نہ صرف بھارت کی جمہوریت کامیاب ہوئی ہے بلکہ بھارت کا آئین بھی کامیاب ہوا ہے۔ ہماری آئینی ادارے کامیاب ہوئے ہیں، ہمارے جمہوری عمل کامیاب ہوئے ہیں‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی بنگال میں تقریباً۹۳ فیصد ووٹنگ خود ایک تاریخی ریکارڈ ہے، جبکہ آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کیرالہ میں بھی ووٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس انتخاب میں خواتین کی شرکت غیر معمولی طور پر زیادہ رہی ہے اور یہ بھارتی جمہوریت کی سب سے روشن تصویر بن کر ابھر رہی ہے۔
مودی نے کہا’’آج کا دن تاریخی ہے، بے مثال ہے۔ جب برسوں کی تپسیا حاصل میں بدلتی ہے تو جو خوشی چہرے پر ظاہر ہوتی ہے، وہ خوشی آج میں ملک بھر کے بی جے پی کارکنوں کے چہروں پر دیکھ رہا ہوں‘‘۔
وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن، اس کے تمام ملازمین، ووٹنگ کے عمل سے وابستہ تمام اہلکاروں، خصوصاً سیکورٹی فورسز کو کامیاب انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد بھی دی۔انہوں نے کہا’’تاریخ ہمیشہ بھارت کی جمہوریت کے وقار کو برقرار رکھنے میں آپ کے تعاون کو یاد رکھے گی۔‘‘
اس سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی سلسلہ وار شول میڈیا پوسٹوں میں کہا کہ مغربی بنگال میں عوام کی طاقت غالب رہی ہے اور بی جے پی کی اچھی حکمرانی کی سیاست کامیاب ہوئی ہے، جبکہ آسام میں این ڈی اے کی جیت ترقی پر زور دینے والے حکمران اتحاد کے لیے غیر متزلزل حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔
ایکس پر پوسٹس کے ایک سلسلے میں، مودی نے یہ بھی کہا کہ مغربی بنگال نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شاندار مینڈیٹ دیا ہے اور ریاست کے عوام کو یقین دلایا کہ پارٹی ان کے خوابوں اور تمناں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔
وزیر اعظم نے کہا ’’مغربی بنگال میں کنول کھلا! مغربی بنگال اسمبلی الیکشن۲۰۲۶ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ عوام کی طاقت غالب رہی اور بی جے پی کی اچھی حکمرانی کی سیاست کامیاب ہوئی۔ میں مغربی بنگال کے ہر فرد کے سامنے جھکتا ہوں‘‘۔
مودی نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریکارڈ کامیابی پارٹی کے نسلوں پر محیط لاتعداد کارکنوں کی کوششوں اور جدوجہد کے بغیر ممکن نہ تھی۔انہوں نے کہا ’’میں ان سب کو سلام کرتا ہوں۔ برسوں تک، انہوں نے زمینی سطح پر محنت کی، ہر طرح کی مشکلات پر قابو پایا اور ہمارے ترقیاتی ایجنڈے کے بارے میں بات کی۔ وہ ہماری پارٹی کی طاقت ہیں‘‘۔
مودی نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال میں معاشرے کے تمام طبقات کو مواقع اور وقار کو یقینی بنانے والی حکومت فراہم کرے گی۔
آسام کے بارے میں، وزیر اعظم نے کہا’’آسام نے بی جے پی،این ڈی اے کو ایک بار پھر آشیرواد دیا!‘‘انہوں نے کہا کہ آسام الیکشن میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی کامیابی ترقی پر زور دینے اور عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اس کے غیر متزلزل حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔میں آسام کے اپنے بھائیوں اور بہنوں کا زبردست مینڈیٹ کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں انہیں یقین بھی دلاتا ہوں کہ ہم ریاست کی ترقی کے لیے کام کرتے رہیں گے‘‘۔
شمال مشرقی ریاست کے عوام کے درمیان شب و روز کوششوں پر تمام بی جے پی،این ڈی اے کارکنوں کی تعریف کرتے ہوئے، مودی نے کہا کہ یہ قابل ستائش ہے کہ پارٹی اور اتحاد پچھلے۱۰سالوں میں کس طرح بڑھے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ان کی کوششوں نے یقینی بنایا ہے کہ ہمارا مثبت ایجنڈا عوام کے دلوں میں اتر گیا ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے پڈوچیری کے عوام کا این ڈی اے کو ایک اور کامیابی دینے پر بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا ’’پڈوچیری کا شکریہ! اچھی حکمرانی کے ہمارے ٹریک ریکارڈ اور سری این رنگاسامی کی قیادت میں حکومت کے کام کی بنیاد پر، پڈوچیری کے عوام نے این ڈی اے کو ایک اور مدت کے لیے آشیرواد دیا ہے۔ یہ آشیرواد اچھی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے ہماری اجتماعی کوششوں میں مزید رفتار پیدا کریں گے‘‘۔
مودی نے کہا کہ وہ پڈوچیری کے این ڈی اے کارکنوں پر بہت فخر کرتے ہیں جن کی زمینی سطح پر غیر معمولی کوششیں ہیں کیونکہ وہ مسلسل عوام کے درمیان رہے ہیں اور اتحاد کے وژن اور ٹریک ریکارڈ کی وضاحت کرتے رہے ہیں۔ان کاکہنا تھا’’اس نے یقینی بنایا ہے کہ عوام نے ہمیں ایک بار پھر آشیرواد دیا‘‘۔
کیرالہ کے انتخابات کے بارے میں، وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جنوبی ریاست میں بی جے پی،این ڈی اے کو ووٹ دینے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔مودی نے کہا ’’ہم کیرالم (کیرالہ) کی ترقی کے لیے اہم مسائل کو اٹھاتے رہیں گے اور وکست کیرالم کے وژن کو پورا کرنے کے لیے سخت محنت کریں گے۔ میں کیرالہ اسمبلی انتخابات میں یو ڈی ایف (متحدہ جمہوری محاذ) کی کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔ مرکز کیرالہ کے عوام کی ترقیاتی خواہشات کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا‘‘۔
تامل ناڈو اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی حمایت کرنے والے تامل ناڈو کے ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، مودی نے کہا کہ اتحاد عوام کے مسائل حل کرنے اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں ہمیشہ سب سے آگے رہے گا۔’’ٹی وی کے (تامل گا تمیلگا کٹچی) کو ان کی شاندار کارکردگی پر مبارکباد۔ مرکز تامل ناڈو کی ترقی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا‘‘۔
شمال مشرقی اور مشرقی ہندوستان میں اپنے بھگوا برش اسٹروک کو بڑھاتے ہوئے، بی جے پی طویل عرصے سے مطلوب مغربی بنگال میں ٹی ایم سی (ترنمول کانگریس) پر فیصلہ کن انتخابی فتح حاصل کرنے اور آسام میں ایک اور مدت کے لیے حکومت بنانے کی طرف گامزن ہے، جبکہ اداکار،سیاستدان وجے کی ٹی وی کے نے تامل ناڈو میں شاندار انتخابی ڈیبیو کیا ہے، جو جیتی یا برتری رکھنے والی سیٹوں کی تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔
جیسے ہی مغربی بنگال، آسام، تامل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی ہوئی، الیکشن کمیشن (ای سی) کے رجحانات نے بائیں بازو کا صفایا اور کانگریس کی واحد جیت دکھائی جو کم ہوتے انتخابی منافع سے دوچار ہے۔
اپوزیشن پارٹی کے لیے یہ امید کی کرن کیرالہ سے آئی جہاں کانگریس کی قیادت میں یو ڈی ایف (متحدہ جمہوری محاذ) نے۱۴۰؍اسمبلی سیٹوں میں سے۱۰۱پر کامیابی حاصل کی یا برتری حاصل کی، جبکہ حکمران سی پی آئی (ایم) کی قیادت میں ایل ڈی ایف (بائیں جمہوری محاذ) صرف۴۰سے کم حلقوں میں آگے تھی۔ (ایجنسیاں)










