ہمیں صرف فعال نہیں بلکہ پیشگی طور پر بھی تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا:وزیر دفاع
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر؍۴مئی
وزیر دفاع‘راج ناتھ سنگھ نے پیر کے روز کہا کہ آپریشن سندور ’تکنیکی جنگ کی ایک مثال‘تھا، جس میں جدید نظاموں کے استعمال اور مسلح افواج کی بدلتے ہوئے جنگی حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت نمایاں ہوئی۔
پریاگ راج میں نارتھ ٹیک سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس آپریشن میں جدید پلیٹ فارمز جیسے آکاش میزائل سسٹم اور براہموس سمیت دیگر جدید آلات کا مؤثر استعمال کیا گیا۔
وزیردفاع نے کہا’’آپریشن سندور بذات خود تکنیکی جنگ کی ایک مثال تھا۔ اس میں آکاش تیر، آکاش میزائل سسٹم اور براہموس جیسے جدید نظاموں کے ساتھ متعدد جدید آلات بھی استعمال کیے گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہماری مسلح افواج نہ صرف تبدیلیوں کو سمجھ رہی ہیں بلکہ اعتماد کے ساتھ انہیں استعمال بھی کر رہی ہیں‘‘۔
سنگھ نے غیر یقینی سیکورٹی ماحول میں ہر وقت تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔ان کاکہنا تھا’’میں نے ہمیشہ اپنی افواج اور دفاعی ماہرین سے کہا ہے کہ ہمیں صرف فعال نہیں بلکہ پیشگی طور پر بھی تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ آپریشن افواج کی تیاری اور موافقت کی بہترین مثال ہے اور دہشت گردی کے خلاف ان کے مضبوط ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔
ایک سال بعد اس آپریشن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’جب بھی آپریشن سندور کا ذکر ہوتا ہے تو مجھے اپنی افواج کی بہادری یاد آتی ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو ایسا سخت جواب دیا گیا کہ پورے ملک کا سر فخر سے بلند ہو گیا‘‘۔
سنگھ نے جنگ کی بدلتی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب غیر روایتی خطرات تیزی سے سامنے آ رہے ہیں اور عام شہری زندگی میں استعمال ہونے والی چیزیں بھی مہلک ہتھیار بن سکتی ہیں۔
وزیر دفاع نے انفراسٹرکچر منصوبوں کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ گنگا ایکسپریس وے جیسے منصوبے دفاعی شعبے کے لیے بھی اہم ثابت ہوں گے۔
سنگھ نے دفاعی شعبے میں حکومتی اقدامات جیسے آئی ڈی ای ایکس، اے ڈی آئی ٹی آئی اور ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ فنڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے نجی شعبے کی شرکت اور جدت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی راہداری اور براہموس اسمبلی جیسے منصوبے بھارت کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھارتی دفاعی صنعت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ دفاعی تحقیق و ترقی کے بجٹ کا۲۵ فیصد حصہ صنعت، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپس کے لیے مختص کیا گیا ہے، اور اب تک تقریباً۴۵۰۰کروڑ روپے اس مد میں خرچ کیے جا چکے ہیں۔
سنگھ نے مزید کہا کہ ڈی آر ڈی او نے اپنے پیٹنٹس اور ٹیسٹنگ سہولیات صنعت کے لیے کھول دی ہیں تاکہ تکنیکی صلاحیت اور عالمی مسابقت میں اضافہ ہو سکے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں لیبارٹریوں میں جیتی جائیں گی، اس لیے تحقیق ناگزیر ہے، اور حکومت نے دفاعی تحقیق کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے۔










