ایجنسیز
سرینگر؍۲مئی
حکام کے مطابق رامبن سے تعلق رکھنے والا۲۲ سالہ نوجوان، جو مبینہ طور پر ’گاؤ رکھشا گروپ‘ کے افراد سے بچنے کے دوران ندی میں چھلانگ لگانے کے بعد گزشتہ۲۰دن سے لاپتہ تھا، ہفتہ کے روز مردہ پایا گیا۔
ایک افسر نے بتایا کہ لاش رامبن ضلع کے کرالنا ڈگڈول کے قریب نالہ بشلری سے برآمد کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان۱۲؍اپریل کو جموں سے اپنے آبائی گاؤں جاتے ہوئے جموںسری نگر قومی شاہراہ پر مکرکوٹ کے قریب لاپتہ ہو گیا تھا، جب اسے مبینہ طور پر روکا گیا اور مارپیٹ کی گئی۔ بعد ازاں اس نے ندی میں چھلانگ لگا دی اور اس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ایک افسر نے کہا’’آج لاش ڈگڈول کے قریب ندی میں دیکھی گئی جسے ریسکیو ٹیموں نے نکال لیا،” انہوں نے مزید بتایا کہ لاش گل سڑ چکی حالت میں تھی اور اسے قانونی و طبی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
متوفی کی شناخت تنویَر احمد چوپان(۲۲)، ولد عبدالسلام چوپان ساکن منڈکھل پوگل کے طور پر ہوئی ہے۔پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں رامسو تھانے میں ایف آئی آر نمبر۲۶/۲۰۲۶درج کر کے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شدگان کی شناخت سُرجیت سنگھ، سندیپ سنگھ، دِگویجئے سنگھ اور کیول سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔
ایس ایس پی رامبن ارون گپتا نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ایس ڈی پی او بنی ہال سریندر سنگھ بلوریا کریں گے۔
اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تعاقب اور مبینہ تشدد کے باعث نوجوان کی موت واقع ہوئی، اور انہوں نے منصفانہ تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔










