یہاں ہریانہ ماڈل کیوں نافذ کیا جارہا ہے ؟التجا مفتی کا سوال
ایجنسیز
سرینگر؍۲۹؍اپریل
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جموں و کشمیر کی اجتماعی تاریخ سے اردو زبان کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے التجا نے دعویٰ کیا کہ محکمہ مال، جس کی سربراہی وزیر اعلیٰ کے پاس ہے، نے جولائی۲۰۲۵میں نظام سے اردو کو ہٹانے کا عمل شروع کیا۔
التجا نے کہا’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری حکومت، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کر رہے ہیں، بتدریج اردو کو، جو جموں و کشمیر کے ہر طبقے اور برادری کی زبان ہے، نظام سے ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔
پی ڈی پی لیڈر نے الزام لگایا کہ محکمہ مال کے سربراہ کے طور پر عمرعبداللہ نے یہ حکم جاری کیا کہ مال کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن صرف انگریزی زبان میں کی جائے گی۔
التجا نے مزید کہا’’یہ اس کے باوجود کیا گیا کہ ہماری صدیوں پر محیط تمام دستاویزات اردو میں ہیں۔ میں عمرعبداللہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ انہوں نے ایسا حکم کیوں جاری کیا؟… یہاں ہریانہ ماڈل کیوں نافذ کیا جا رہا ہے اور انگریزی کو کیوں مسلط کیا جا رہا ہے جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ تمام ریکارڈ اردو میں ہیں؟‘‘
پی ڈی پی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ عمرعبداللہ کی حکومت کے تحت محکمہ مال میں بھرتی کے لیے اردو زبان کی شرط، جو پہلے لازمی تھی، ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا’’میری عمرعبداللہ سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے، لیکن جو کچھ مہاراجہ کے دور میں نہیں ہوا یا حتیٰ کہ جب بی جے پی چاہتی تھی تب بھی نہیں ہوا، وہ اب کیوں ہو رہا ہے؟ آپ کو اردو سے کیا مسئلہ ہے؟ آپ ہماری اجتماعی تاریخ سے اردو کو کیوں نکال رہے ہیں؟‘‘
التجا نے زور دے کر کہا کہ اردو صدیوں سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی مشترکہ زبان رہی ہے۔’’کیا لوگوں نے انہیں اتنا بڑا مینڈیٹ اس لیے دیا ہے کہ وہ ہماری زبان، جو ہماری ثقافت اور شناخت کا ایک بڑا حصہ ہے، کو مٹا دیں؟ کیا آپ یہ سب بی جے پی کے کہنے پر کر رہے ہیں؟‘‘ انہوں نے مزید کہا’’یہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں پر بھی حملہ ہے‘‘۔
منگل کے روز، مفتی نے اپنی پارٹی کے احتجاج کی قیادت کی جو جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے مال کے ریکارڈ میں اردو کو لازمی زبان کے طور پر ختم کرنے کے خلاف کیا گیا۔ (ایجنسیز)










