ایجنسیز
جموں؍۲۷؍اپریل
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے ) نے حال ہی میں بے نقاب ہونے والے ایک بین الریاستی لشکرِ طیبہ دہشت گرد ماڈیول سے متعلق کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور پیر کے روز تفتیش کے لیے گرفتار کیے گئے پانچ دہشت گردوں، جن میں دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں، کی تحویل حاصل کر لی ہے، حکام نے بتایا۔
۷ ؍اپریل کو جموں و کشمیر پولیس نے انسدادِ دہشت گردی مہم میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لشکرِ طیبہ کے پانچ کارندوں کو گرفتار کیا، جن میں عبداللہ، عرف ابو ہریرہ بھی شامل ہے، جو گزشتہ۱۶ برس سے مفرور تھا اور یونین ٹیریٹری سے باہر اپنے اڈے قائم کرنے میں کامیاب رہا تھا۔
عبداللہ کے علاوہ ایک اور پاکستانی دہشت گرد عثمان عرف خبیب اور سری نگر کے تین رہائشی محمد نقیب بھٹ، عادل رشید اور غلام محمد میر عرف ماما کو بھی اس بڑے آپریشن میں گرفتار کیا گیا، جس میں جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ ساتھ مرکزی ایجنسیوں نے بھی حصہ لیا۔
تحقیقات کے دوران ایک گہرا جڑ پکڑے ہوئے لشکرِ طیبہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا، جو دہشت گردوں کو لاجسٹک اور مالی معاونت فراہم کرنے میں ملوث تھا۔
مزید تحقیقات کے لیے کیس سنبھالنے کے بعد ایجنسی نے پیر کے روز گرفتار دہشت گردوں کو جموں میں این آئی اے کی خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا، حکام نے بتایا۔
عدالت نے پانچوں ملزم دہشت گردوں کو ایجنسی کی تحویل میں دے دیا، حکام نے کہا۔ دو پاکستانی شہریوں کو دو روزہ ریمانڈ دیا گیا، جبکہ تین مقامی دہشت گردوں کو۱۵روزہ تحویل میں بھیج دیا گیا۔










