سعودی حکومت کا حج کو کامیاب بنانے کیلئے متعدد اقدامات کا اعلان ‘ مناسک حج ادا کرنے والوں کی خوراک اور دوا کی سلامتی اولین ترجیح ہے
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۴؍اپریل
سعودی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ جو کوئی بھی تمام اقسام کے وزٹ ویزا رکھنے والوں کو رہائش کے لیے مختص کسی بھی جگہ (ہوٹل، اپارٹمنٹ، نجی گھر، پناہ گاہیں، حجاج کی رہائشی جگہیں اور دیگر) میں پناہ دے گا یا ان کی پردہ پوشی کرے گا۔ اس پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ عائد کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارت داخلہ نے آج جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایسی کسی بھی قسم کی امداد فراہم کرنے پر بھی جرمانہ ہوگا جو یکم ذی القعدہ سے لے کر۱۴ذی الحجہ کے اختتام تک ان کے مکہ مکرمہ اور مشاعرِ مقدسہ میں قیام کا باعث بنے اور جرمانے کی رقم پناہ پانے والے، پردہ پوشی کیے جانے والے یا مدد حاصل کرنے والے خلاف ورزی کرنے والے افراد کی تعداد کے مطابق بڑھتی جائے گی۔
اسی سیاق و سباق میں سعودی وزارتِ داخلہ نے تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سال(۱۴۴۷) کے حج سیزن کو منظم کرنے والی ہدایات کی پابندی کریں اور ضیوف الرحمن کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں۔
اس بیچ سعودی عرب نے ادویات اور خوراک کے شعبے کو ایسے احکامات اور ایگزیکٹو ضوابط کا پابند کر دیا ہے جو سرکاری قانونی لائسنس حاصل کیے بغیر حجاج کے لیے مخصوص غذائی اشیاء کی تیاری یا ذخیرہ اندوزی نہ کرنے کی شرط رکھتے ہیں۔ ان احکامات کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ ریال تک جرمانہ یا دس سال تک قید کی سزائیں مقرر کردی گئی ہے۔
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ‘ جو مملکت میں ادویات اور خوراک کی تنظیم اور نگرانی کی ذمہ دار سرکاری باڈی ہے ۔ کی جانب سے ظاہر کی گئی سزاؤں میں خلاف ورزی کرنے والے کو۱۸۰ دن تک کسی بھی غذائی سرگرمی سے روکنا یا اس سرگرمی کے لائسنس کی منسوخی یا ایک سال سے زیادہ مدت کے لیے اسے معطل کرنا بھی شامل ہے۔
اتھارٹی نے تمام غذائی کارخانوں اور گوداموں کے لیے فوڈ سسٹم کے احکامات اور اس کے ایگزیکٹو ضوابط کی پابندی کرنے اور ضروری قانونی لائسنس حاصل کیے بغیر غذائی مواد تیار کرنے یا ذخیرہ کرنے کی سرگرمی نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتھارٹی نے حجاج کی خوراک اور دوا کی سلامتی میں سستی برتنے پر خبردار کیا ہے اور کہا کہ مناسک حج ادا کرنے والوں کی خوراک اور دوا کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ اتھارٹی نے کہا قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ۔
انتباہات کے تسلسل میں اتھارٹی نے لائسنس یافتہ تنصیب کی حدود سے باہر مصنوعات کو ذخیرہ نہ کرنے، تنصیبات کو بند کیے جانے کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنے سے پہلے دوبارہ نہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اتھارٹی نے قرار دیا ہے کہ فوڈ سسٹم کے احکامات کی پابندی تعمیل کی سطح بلند کرنے میں مدد دیتی ہے اور گردش میں موجود غذائی مصنوعات کی سلامتی کو بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ اتھارٹی نے ساتھ ہی تمام تنصیبات کو متعلقہ قوانین و ہدایات پر عمل کرنے کی دعوت دی ہے اور معاشرے کے افراد سے کسی بھی مشاہدہ کی گئی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے حج سیزن کے دوران اتھارٹی کو سونپے گئے کاموں میں سرحدی راستوں پر نگرانی بھی شامل ہے جو حجاج کے ساتھ آنے والی یا جدہ اور مدینہ کے ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر حج امور کے دفاتر کے ذریعے آنے والی غذائی، دوائی اور طبی کھیپوں کے معائنے اور جانچ پڑتال کے گرد گھومتی ہے۔
مشاعرِ مقدسہ میں خوراک کی سلامتی سے متعلق ہدایات لاگو کی جاتی ہیں۔ یہ ہدایات مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشاعرِ مقدسہ میں غذائی تنصیبات، کچنز اور کیٹرنگ کمپنیوں کے معائنے پر مبنی ہیں تاکہ ان کی صحت کے شرائط اور فراہم کردہ کھانوں کی سلامتی کے ساتھ مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی وقت یہ خوراک کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی پر سخت نگرانی نافذ کرتی ہے اور سرکاری لائسنس کے بغیر ایسا کرنے سے روکتی ہے۔
سعودی عرب حجاج کرام کو تمام اقسام کی خدمات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ یہ سب ایک سرکاری یکجہتی کے فریم ورک کے تحت ہے جو ریاستی اداروں کے باہمی تعاون پر مبنی سالانہ منصوبوں کے مطابق چلتا ہے۔ حجاج کی جانب سے اپنے مناسک آسانی اور سہولت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی کوششوں میں ڈیجیٹل خدمات بھی شامل ہیں۔ یہ خدمات وقت کی بچت کرتی ہیں تاکہ حاجی الیکٹرانک طریقے سے مناسک کی ادائیگی کا اجازت نامہ جاری کر سکے۔ اندرونِ ملک کے حجاج ہوں یا بیرونِ ملک کے، سب ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی خدمات میں رہائش، نقل و حمل اور قیام کے انتخاب کے امکان کے ساتھ ساتھ طبی دیکھ بھال بھی شامل ہے جو دنیا کی جدید ترین طبی ٹیکنالوجی سے لیس ہسپتالوں اور مراکز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے جس پر اہل سعودی عملہ کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رہنمائی اور آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے جو آگاہی، صحت اور رہنمائی کے پروگراموں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے ۔ ان خدمات کا مقصد حجاج کرام کے لیے مناسک کو آسان بنانا ہے۔
مملکت کے ’’ ویژن۲۰۳۰ ‘‘ کے فریم ورک کے تحت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے۲۰۱۹ میں ضیوف الرحمن کی خدمت کے لیے ایک خاص پروگرام شروع کیا تھا تاکہ دنیا کے تمام حصوں سے آنے والے لاکھوں ضیوف الرحمن کی خدمت میں ایک نئی معیاری تبدیلی لانے میں مدد مل سکے۔










