طلبہ میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، اخلاقی فیصلہ سازی، باہمی تعاون اور مسلسل سیکھنے کی عادت کو فروغ دیں:ایل جی سنہا
جموں؍۲۳؍ اپریل
لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا نے جمعرات کو طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں اور تعلیمی نظام کو بدلتے عالمی حالات کے مطابق ڈھالیں تاکہ بھارت کو ایک مضبوط علمی معیشت کے طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔
سنہا نے یہ بات جموں کے مضافاتی علاقے پنجگرائیں میں سوامی پرنوا نند ودیامندر کے نئے اسکول عمارت کے افتتاح کے موقع پر کہی۔
ایل جی نے کہا کہ ہر طالب علم، چاہے وہ فن، ہنر، موسیقی یا کاروباری صلاحیتوں میں مہارت رکھتا ہو، یکساں عزت اور مواقع کا مستحق ہے۔
سنہا نے کہا کہ نئی ہائر سیکنڈری عمارت اور اسکل انفراسٹرکچر سے پسماندہ طبقے کے طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق عمارت کی تکمیل کے بعد یہاں۱۵۰۰سے زائد طلبہ کو سہولت میسر ہوگی اور یہ منصوبہ ہزاروں زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔
ایل جی نے کہا کہ مستقبل میں۱۰۰طلبہ کے لیے رہائشی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور پسماندہ علاقوں میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ صرف نمبروں اور محدود نصاب تک تعلیم کو محدود نہ رکھیں بلکہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، اخلاقی فیصلہ سازی، باہمی تعاون اور مسلسل سیکھنے کی عادت کو فروغ دیں، کیونکہ یہ وہ صلاحیتیں ہیں جنہیں کوئی مشین تبدیل نہیں کر سکتی۔
سنہا نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور موجودہ دور میں پیشہ ورانہ میدان میں کامیابی کے لیے مسلسل سیکھنا، مہارت حاصل کرنا اور خود کو اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن مختلف شعبوں کو بدل رہے ہیں۔
ایل جی نے قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی قومی ضروریات کو پورا کرنے، معاشرتی صلاحیت بڑھانے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جو بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
سنہا نے کہا’’دیہی و شہری اور علاقائی و سماجی خلیج کو پاٹنے کے لیے قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ایک طاقتور ذریعہ، معاشرتی اثاثہ اور باصلاحیت طلبہ کے لیے قابلِ اعتماد سہارا ہے۔ بھارت ایک مضبوط علمی معیشت کے طور پر ابھرے گا جو سائنسی مزاج، اخلاقی قوت، ثقافتی اقدار، مہارتوں اور خدمت و ایثار کے جذبے سے آراستہ نسلوں کی پرورش کرے گا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایک طالب علم کی بیرونی دنیا کے بارے میں سوچ اس کی خود شناسی پر منحصر ہوتی ہے، جو اس کے تجربات سے تشکیل پاتی ہے۔
ایل جی کے مطابق حقیقی تعلیم دونوں پہلوؤں میں توازن قائم کرتی ہے—یہ طلبہ کو بیرونی دنیا کے لیے علم اور مہارت فراہم کرتی ہے، جبکہ اندرونی دنیا کے لیے خود آگاہی اور جذباتی مضبوطی بھی دیتی ہے۔ یہی جامع نقطۂ نظر ہر اسکول کی بنیادی ذمہ داری ہونا چاہیے۔
سنہا کاکہنا تھا’’ہر طالب علم کو ترقی کے لیے سائنس اور اقدار کا امتزاج اپنانا ہوگا۔ قومی تعلیمی پالیسی کے اقدامات ‘وکست بھارت’ کی ضمانت ہیں؛ کئی دہائیوں میں پہلی بار ہمارے باصلاحیت بچے، نوجوان اور طلبہ پالیسی کی ترجیحات بنے ہیں۔ایجنسیز‘‘










