رام بن؍۲۱؍اپریل
پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے رامسو میں۱۸سالہ تنویر چوپان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور واقعے کی مکمل جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور تمام ذمہ داروں کی گرفتاری پر زور دیا۔
تنویر چوپان، جو چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، مبینہ طور پر ضلع رام بن کے رامسو مکڑکوٹ علاقے میں ایک پُرتشدد واقعے کا شکار ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اسے مقامی افراد کے ایک گروہ نے نشانہ بنایا، جنہیں بعد میں جموں و کشمیر پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تنویر دودھ کے لیے گائیں پالتا تھا، ایک ٹاٹا موبائل گاڑی میں گائے لے جا کر اپنے گھر جا رہا تھا۔ اسی بنیاد پر اس پر شبہ کیا گیا اور مبینہ طور پر اسے ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا، جس میں پتھراؤ اور ہجومی حملہ شامل تھا۔ بعد ازاں اس کی لاش مبینہ طور پر قومی شاہراہ۴۴ پر مکڑکوٹ کے قریب نالہ بشنادی میں پھینک دی گئی۔
حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں ۔
اپنے بیٹے کی المناک موت پر غم سے نڈھال عبدالسلام چوپان نے ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
عبدالسلام چوپان، جو اس وقت بنی ہال ریلوے اسٹیشن پر بطور اسپیشل پولیس آفیسر تعینات ہیں، نے کہا کہ ان کے ۱۸سالہ بیٹے تنویر کو مبینہ طور پر گاؤ رکھشکوں نے تعاقب کر کے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے دوران وہ ایک ندی میں گر گیا۔
انہوں نے کہا’’یا تو ان کو پھانسی دی جائے یا ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اپنی زندگی ختم کر دیں۔ تنویر نے اسی سال جنوری میں ۱۸سال کی عمر مکمل کی تھی۔ ظالم حملہ آوروں نے میرے بیٹے کا پیچھا کیا اور اس پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں وہ ایک پتھریلی چٹان سے پھسل کر نیچے بہتے دریا میں جا گرا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’میں ان چار حملہ آوروں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کرتا ہوں جنہوں نے ہماری دنیا اجاڑ دی۔ وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ وہ جموں میں ایک فیکٹری میں بطور ڈرائیور کام کرتا تھا۔ اتوار کی صبح تقریباً ۶بجے اس نے فون کر کے بتایا تھا کہ وہ گھر آ رہا ہے‘‘۔
یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہوا ہے، جبکہ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔










