ہم کئی بار کہہ چکے ہیں …….یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے ہر دلعزیز وزیر اعظم مودی جی ایک سیاستدان نہیں بلکہ جادو گر ہیں ……. جادو گر ۔ یہ مٹی کو بھی ہاتھ لگائیں تو وہ سونا بن جاتی ہے اور……. اور یہ بات ہم آپ کو کئی بار کہہ چکے ہیں ‘ سمجھا چکے ہیں ……. لیکن آپ سمجھ نہیں رہے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے ہیں …….آپ نہ سمجھنے کی ضد کئے ہو ئے ہیں ‘ کیوں یہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ اگر ہم کچھ جانتے ہیں تو ……. تو یہ ایک بات جانتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی جی سچ میں جادو گر ہیں …….جو کسی کو بھی فرش سے عرش پر پہنچا سکتے ہیں ……. اپنی پارٹی بی جے پی کو بھی……. کہ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ یہ پارٹی ‘ ملک پر راج کرنے کا خواب دیکھنے کی بھی جسارت نہیں کرتی تھی اور ……. اور آج اس پارٹی کو اقتدار سے الگ کرنا ایک خواب سا لگتا ہے …….اور یہ کمال ‘ یہ جادو کسی اور کا نہیں بلکہ وزیر اعظم مودی جی کا ہے……. کسی اور کا نہیں ……. بالکل بھی نہیں ۔ لیکن یہ بات کانگریس نہیں سمجھ رہی ہے ……. کانگریس کو اس بات پر اعتراض ہے کہ وزیر اعظم مودی جی نے ہفتہ کی رات کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں اس کا نام ۵۹ بار لیا …….انہوں نے ۵۹ بار کانگریس ، کانگریس ، کانگریس کیا ۔اور کانگریس کو اس پر اعتراض ہے ۔ لیکن کیوں ؟اللہ میاں کی قسم اسے تو خوش ہونا چاہئے کہ وزیر اعظم مودی جی قومی ٹیلی ویژن پر اس کا نام لیں رہے ہیں ‘۵۹ بار لیں رہے ہیں…….ملک کے لوگوں تک کانگریس کو پہنچا رہے ہیں ……. ان لوگوں تک جو شاید آج کی تاریخ میں کانگریس کو بھول چکے ہیں …….اور مزے کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی جی یہ کام ……. کانگریس کی تشہیر کا کام بالکل مفت میں کررہے ہیں ……. اور کانگریس ہے کہ اسے اس بات پر اعتراض ہے ۔ ارے کم عقلو !تمہیں تو وزیرا عظم مودی جی کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ ا نہوں نے تمہارا نام لیا ……. اس وقت لیا‘۵۹ بار لیا جب ملک میں تمہارا کوئی نام لیوا نہیں ہے اور ……. اور تم ہو کہ اس پربھی آگ بگولہ ہو رہے ہو ۔تمہیں تو خوش ہو با چاہئے کہ اور اس لئے ہو نا چاہئے جو مودی جی مٹی کو ایک بار چھو لیں تو وہ سونا بن جائے اور ……. اور وہ تو ۵۹ بار تمہیں چھو رہے ہیں ‘ تمہارا نام لیں رے ہیں …….تمہیں سونا بنا رہے ہیں اور تمہیں اس پر بھی اعتراض ہے ۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔




