نئی دہلی؍۲۰؍اپریل
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کے روز کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت منشیات کے کارٹیلز کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی جانب سے۲۰۲۶ کی پہلی سہ ماہی میں۷۳ مجرموں کو سزا دلوانے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
اہم مقدمات میں احمد آباد ایئرپورٹ پر۲۰۲۱ میں 2.75 کلوگرام ہیروئن اور۲۰۲۲میں بھارت-پاکستان سرحد کے قریب فاضلکہ (پنجاب) سے 4.23 کلوگرام ہیروئن کی برآمدگی سے متعلق کیس شامل ہیں۔
ان مقدمات میں دو غیر ملکی منشیات اسمگلروں کو۲۰ سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی، وزارت داخلہ کے بیان میں کہا گیا۔
امیت شاہ نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا،’’نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لیے مودی حکومت منشیات مافیا کا بے رحمی سے خاتمہ کر رہی ہے اور ان کے خلاف سزائیں بھی یقینی بنا رہی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’اس مشن کے تحت این سی بی نے۲۰۲۶کے پہلے تین مہینوں میں۷۳منشیات کے مجرموں کو سخت سزائیں دلوا کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم پوری قوت کے ساتھ منشیات کے نیٹ ورکس کی ہر ممکن گنجائش کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ این سی بی کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق این سی بی نے اس سال کے ابتدائی تین مہینوں میں۳۵مقدمات میں۷۳؍ افراد کو سزا دلوائی، جن میں سے۴کو زیادہ سے زیادہ۲۰سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ۵۴کو۱۰سال یا اس سے زائد قید کی سزائیں دی گئیں۔
بیان کے مطابق مجرموں پر مجموعی طور پر 1.22 کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
بیان میں۲۰۲۳ کے ایک پیسوڈوایفیڈرین کیس کا بھی ذکر کیا گیا جس میں ہریانہ کے سونی پت میں واقع کمپنی ‘ایلپس لائف سائنسز پرائیویٹ لمیٹڈ’ ملوث تھی۔
اس کیس میں کمپنی کے ڈائریکٹر سمیت تین ملزمان کو سات سال قیدِ با مشقت اور فی کس 1.5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ کمپنی پر بھی 1.5 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا اور اس کا پیسوڈوایفیڈرین بنانے کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا۔
این سی بی نے دیگر مرکزی و ریاستی تحقیقاتی ایجنسیوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کے بڑے ملزمان سے متعلق زیر التوا مقدمات کی نشاندہی کریں اور مؤثر پیروی کو یقینی بنائیں۔ (ایجنسیاں)
ایجنسیز










