بلا ک کوبانجھ پن اور امراضِ نسواں کینسر مرکز کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے
ڈ ی آئی پی آر
سرینگر؍۱۸؍اپریل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز لل دید اسپتال کے توسیعی بلاک پر جاری تعمیراتی کام کا معائنہ کیا اور منصوبے کی پیش رفت، حکمت عملی اور بنیادی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کو مقررہ وقت میں اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔
یہ نیا بلاک خطے کے اس بڑے زچگی اسپتال میں ایک خصوصی بانجھ پن اور امراضِ نسواں کینسر مرکز کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، جس سے جموں و کشمیر میں خواتین اور نومولود بچوں کے لیے جدید اور معیاری طبی سہولیات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے تعمیراتی کام کی رفتار اور معیار کا جائزہ لیا اور اہم سہولیات کی توسیع کے حوالے سے بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ منصوبے کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ان کے مشیر ناصر اسلم وانی، گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کی پرنسپل و ڈین ڈاکٹر افت حسن، ایڈمنسٹریٹر جی ایم سی محمد اشرف حکاک، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایل ڈی اسپتال اور پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی)، جے کے ایرا کشمیر کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ عالمی بینک کی مالی معاونت سے چلنے والے جہلم تاوی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کے تحت پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) محکمہ کے ذریعے تقریباً۱۱۸ء۲۲کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ عمارت جی+۵+اٹک ڈھانچے پر مشتمل ہوگی، جس کا کل رقبہ تقریباً۱۱ہزار۶۴۰مربع میٹر ہوگا اور اس میں۱۱۷خصوصی بستروں کی گنجائش ہوگی، جن میں۶۵بالغ اور۵۲نومولود بچوں کے لیے مختص ہوں گے۔
حکام کے مطابق اس مرکز میں جدید ترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی جن میں ماڈیولر آپریشن تھیٹر، آئی سی یو، ایچ ڈی یو، این آئی سی یو، لیبر، ڈیلیوری اینڈ ریکوری (ایل ڈی آر) سوئٹس، آئی وی ایف لیبارٹریز اور جدید فیٹل انٹروینشن سہولیات شامل ہوں گی، جو قومی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں گی۔
منصوبے کی ساختی مضبوطی کے حوالے سے بتایا گیا کہ عمارت کو زلزلہ زون۵کے تقاضوں کے مطابق جدید بیس آئیسولیشن ٹیکنالوجی کے تحت۴۳فریکشن پینڈولم آئیسولیٹرز کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے، جس سے اسے اعلیٰ درجے کا زلزلہ تحفظ حاصل ہوگا۔ اس کے ڈیزائن اور انجینئرنگ کی توثیق ممتاز تکنیکی اداروں نے کی ہے۔
جائزہ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ بنیادوں کا کام اور گراؤنڈ فلور کا ڈھانچہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ بیس آئیسولیٹرز کی تنصیب آخری مراحل میں ہے اور پری انجینئرڈ بلڈنگ کے ڈھانچے پر مختلف حصوں میں کام جاری ہے۔ بڑے طبی آلات اور مکینیکل و الیکٹریکل نظام کی خریداری کا عمل بھی شروع کیا جا چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ صحت محکمہ سمیت تمام متعلقہ ادارے قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ فنڈز کی بروقت فراہمی، منظوریوں کا جلد اجرا اور منصوبے کی تکمیل کے بعد اس کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ جموں و کشمیر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور اس سے خواتین اور نومولود بچوں کو جدید، معیاری اور آسان رسائی والی طبی سہولیات میسر آئیں گی۔










