۵ دنوں میں ۶۳ منشیات سمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے :ایل جی
(ڈی آئی پی آر )
جموں؍۱۸؍اپریل
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو راجوری میں پد یاترا کی قیادت کرتے ہوئے منشیات سے پاک جموں و کشمیر کے لیے اپنی مہم جاری رکھی۔
حالیہ کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ۱۱؍اپریل کو شروع کی گئی۱۰۰روزہ’ نشہ مکّت جموں کشمیر مہم‘ کے پہلے پانچ دنوں میں۴۵ سے زیادہ ایف آئی آر درج کی گئیں اور۶۳سمگلرز کو گرفتار کیا گیا۔
ایل جی نے مزید کہا کہ بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں اور پورے علاقے میں اسکولوں، فارمیسیوں اور دوائی ایجنسیوں میں باقاعدہ چیکنگ کی جا رہی ہے۔
راجوری کو سرحدی اور حساس ضلع قرار دیتے ہوئے جو سرحد پار سمگلنگ کا شکار ہے، انھوں نے کہا کہ حکومت ایسے چیلنجوں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف سرحدوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے کے اندر بھی ایک جنگ ہے۔
ان کاکہنا تھا’’نشہ صرف ایک ذاتی کمزوری نہیں ہے بلکہ ہمارے سماجی تانے بانے میں ایک گہرا زخم ہے۔ ہمارا مخالف پڑوسی منشیات کی اسمگلنگ کو دہشت گردی کو ہوا دینے اور ملک کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے‘‘۔
ایل جی نے نفاذ میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ۱۱؍اپریل کے بعد درج مقدمات میں پچھلے ہفتے کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ان کاکہنا تھا ’’۱۰۰دنوں میں، ہمیں منشیات کے نیٹ ورک کی کمر توڑنی ہے۔ جب معاشرہ اور انتظامیہ متحد ہو جائیں گے، تو کوئی مجرم نہیں بچے گا‘‘۔
روک تھام پر زور دیتے ہوئے سنہا نے کہا کہ بیداری مہمات کو منشیات پہنچنے سے پہلے ہی بچوں اور نوجوانوں تک پہنچنا چاہیے۔ انھوں نے ایک جامع بحالی کے نظام (مشاورت، سم ربائی، بحالی اور بعد از علاج دیکھ بھال) کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
ایل جی کےمطابق ’’ہم وقار بحال کریں گے، متاثرہ افراد کا معاشرے سے دوبارہ رابطہ قائم کروائیں گے اور انھیں ایک روشن مستقبل میں تعاون کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ افسران کو باقاعدگی سے پیش رفت کا جائزہ لینا چاہیے، جس میں بحالی کے نتائج اور گرفتاریاں شامل ہیں، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جعلی بحالی مراکز بند کروائے جائیں‘‘۔
سنہا نے سماجی تنظیموں اور این جی اوز سے بھی مہم میں سرگرم حصہ لینے کی اپیل کی۔
اس موقع پر، لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے خلاف حلف دلایا اور جاری ’نشہ مکّت جموں کشمیر مہم‘ کے حصے کے طور پر راجوری پریمیئر لیگ اور راجوری فٹ بال کلب کا آغاز کیا۔ (ایجنسیاں)










