تاہم ہم اپنے داخلی معاملات پر کسی بھی بیرونی مداخلت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں:ترجمان وزارت خارجہ
(ایجنسیز )
نئی دہلی؍۱۷؍اپریل
مغربی ایشیا میں جاری کشیدہ صورتحال کے درمیان بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے ہر مثبت قدم کی حمایت کرتا ہے، تاہم اپنے داخلی معاملات پر کسی بھی بیرونی مداخلت کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان‘ رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ نئی دہلی مغربی ایشیا کی بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ان سے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں میں مبینہ کردار سے متعلق سوال کیا گیا تھا، جس پر انہوں نے محتاط انداز اپناتے ہوئے صرف یہ کہا کہ بھارت خطے کی پیش رفت پر نظر رکھ رہا ہے۔
اسلام آباد میں۱۱۔۱۲؍اپریل کو ہونے والے مذاکرات، جنہیں پاکستان نے ثالثی کے طور پر میزبانی دی، امریکہ اور ایران کے درمیان۳۹روزہ کشیدگی کو ختم کرنے کی ایک اہم مگر غیر حتمی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔ یہ۱۹۷۹ کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست اعلیٰ سطحی ملاقات بھی تھی۔
خطے کے دیگر معاملات پر بات کرتے ہوئے جیسوال نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ بھارت ہر ایسے اقدام کی حمایت کرتا ہے جو امن کی طرف لے جائے۔
بحری سلامتی کے حوالے سے، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق عالمی مشاورت میں بھارت کی شرکت پر بھی بات ہوئی۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے ہونے والی آئندہ میٹنگ کے لیے بھارت کو دعوت موصول ہوئی ہے، اور مزید تفصیلات بعد میں شیئر کی جائیں گی۔
ترجمان نے بتایا کہ ایران میں کشیدگی کے آغاز کے بعد بھارت نے اپنے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات کیے۔انہوں نے کہا کہ اب تک۲۳۶۱ بھارتی شہریوں کو بحفاظت واپس لایا گیا ہے، جن میں۱۰۴۱طلبہ شامل ہیں۔ ان میں سے۲۰۶۰؍افراد آرمینیا کے راستے جبکہ۳۰۱آذربائیجان کے ذریعے بھارت پہنچے۔ اس کے علاوہ تین غیر ملکی شہریوں کو بھی نکالا گیا، جن کا تعلق بنگلہ دیش، سری لنکا اور گیانا سے تھا۔
یہ اعداد و شمار ایک خاموش ترجیح کو ظاہر کرتے ہیں‘باہر کی سیاست اپنی جگہ، اپنے لوگوں کو واپس لانا سب سے پہلے۔
حد بندی بل پر پاکستان کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے جیسوال نے کہا کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور کسی بھی بیرونی تبصرے یا مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان ایک بار پھر بھارت کے اس مؤقف کو دہراتا ہے کہ علاقائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
عالمی موسمیاتی پالیسی کے حوالے سے، بھارت نے اقوام متحدہ کی۳۳ویں موسمیاتی کانفرنس کی میزبانی سے دستبرداری کی تصدیق کی۔ تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ بھارت اپنے موسمیاتی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہے اور پیرس معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی گرین پالیسی کو مزید آگے بڑھا رہا ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی اقدامات کو فروغ دے گا، جن میں انٹرنیشنل سولر الائنس جیسے اقدامات شامل ہیں۔










