نئی دہلی،16 اپریل (یو این آئی)پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن بل (ناری شکتی وندن ادھینیم) پر بحث کے دوران جہاں حکومتی اراکین نے اسے خواتین کی بااختیاری کا سنگِ میل قرار دیا، وہیں اپوزیشن نے اس کی ٹائمنگ اور نفاذ کے طریقے پر سنگین سوالات اٹھائے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے حکومت کی منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ بل محض ایک سیاسی اداکاری ہے۔ انہوں نے کہا”حکومت مردم شماری اور حد بندی کی شرط لگا کر اس بل کو الجھا رہی ہے۔ اگر نیت صاف ہوتی تو اسے 2024 کے انتخابات سے پہلے ہی نافذ کیا جا سکتا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ پنچایتوں میں خواتین کو ریزرویشن راجیو گاندھی کے دور میں ملا اور ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم اور صدر بھی کانگریس نے ہی دیے۔
این سی پی (ایس پی) کے ڈاکٹر امول کولہے نے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم خواتین کے ریزرویشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ملک بھر سے جو لاکھوں خواتین لاپتہ ہو رہی ہیں، ان پر بحث کیوں نہیں کی جا رہی؟ انہوں نے اسے احسان کے بجائے حق قرار دیا۔
دوسری جانب بی جے پی کی بانسری سوراج نے بل کی حمایت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ثقافت میں خواتین کا درجہ ہمیشہ بلند رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت خواتین کی سیاسی نمائندگی کو یقینی بنا کر ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر رہی ہے۔
شیو سینا کے نریش مہسکے نے اس دن کو پارلیمانی تاریخ کا "سنہرا دن” قرار دیتے ہوئے کہا "یہ بل خواتین کو صرف ریزرویشن نہیں دے گا بلکہ پالیسی سازی میں انہیں اہم مقام عطا کرے گا۔ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔”
ناری شکتی سے ناری قیادت تک
لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کی شامبھوی چودھری نے وزیر اعظم مودی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان خواتین کی ترقی سے ‘خواتین کی قیادت میں ترقی کے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر سیاسی ارادے کی کمی کا الزام لگایا۔










