نئی دہلی، 08 اپریل (یو این آئی) حکومت نے عوامی شعبے کی پیٹرولیم کمپنی ‘ہندوستان پیٹرولیم’ (ایچ پی سی ایل ) کی جانب سے راجستھان میں قائم کی جانے والی ایچ پی سی ایل راجستھان ریفائنری لمیٹڈ (ایچ آرآرایل ) کی تخمینہ شدہ لاگت میں اضافے کے ساتھ، کمپنی کی طرف سے 8,962 کروڑ روپے کے اضافی شیئرپونجی کی سرمایہ کاری کی تجویز کو بدھ کے روز منظوری دے دی۔
ضلع بالوترا کے پچپدرا میں ایچ پی سی ایل اور حکومت راجستھان کے درمیان 74:26 فیصد کی شراکت داری کے ساتھ لگائے جانے والے اس 90 لاکھ ٹن سالانہ صلاحیت کے حامل وسیع پیٹرولیم ریفائنری منصوبے کی لاگت کو اب نظر ثانی کے بعد 79,459 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اس پر 43,129 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا تخمینہ تھا۔ اس ریفائنری میں پیٹرو کیمیکلز کی پیداواری صلاحیت 24 لاکھ ٹن سالانہ ہوگی۔ منصوبے کے مطابق، اس پروجیکٹ کو رواں سال جولائی کے شروع میں تجارتی طور پر شروع کیا جانا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی نے ایچ آر آر ایل کی نظر ثانی شدہ لاگت اور اس میں ایچ پی سی ایل کے شیئرپونجی کو بڑھانے کی تجویز کو منظوری دیتے ہوئے بتایا کہ ایچ پی سی ایل کی جانب سے اس منصوبے میں 8,962 کروڑ روپے کی اضافی ایکویٹی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس کے بعد ایچ پی سی ایل کی مجموعی ایکویٹی سرمایہ کاری 19,600 کروڑ روپے ہو جائے گی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ایچ آر آر ایل ریفائنری ایک انتہائی پیچیدہ منصوبہ ہے جس میں ڈیزل اور پیٹرول کے علاوہ 26 فیصد سے زائد صلاحیت پیٹرو کیمیکلز کی تیاری کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس کارخانے کی تکمیل پر اس میں سالانہ10 لاکھ ٹن پیٹرول،40 لاکھ ٹن ڈیزل،10 لاکھ ٹن پولی پروپیلین،5 لاکھ ٹن لینئر لو ڈینسٹی پولی ایتھیلین (ایل ایل ڈی پی ای )،5 لاکھ ٹن ہائی ڈینسٹی پولی ایتھیلین (ایچ ڈی پی ای )، تقریباً 4 لاکھ ٹن بینزین، ٹولیون اور بیوٹاڈین تیار کیا جا سکے گا۔
یہ تمام مصنوعات ٹرانسپورٹ، فارما، پینٹس اور پیکیجنگ انڈسٹری جیسے شعبوں میں کام آئیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو مضبوط کرے گا اور پیٹرو کیمیکل کے شعبے میں درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔
مسٹر ویشنو نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ راجستھان کے ایک پسماندہ علاقے میں صنعت کاری میں مددگار ثابت ہوگا، اس میں مقامی ‘منگلا پیٹرولیم بلاک’ کے خام تیل کا استعمال کیا جائے گا اور اس سے ہندوستان کی بحیثیت ‘آئل ریفائننگ ہب’ پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔ اس کی تعمیر کے دوران مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے 25,000 لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔










