جمعہ, جولائی 31, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

سرنگوں سے ریل تک:کشمیر کی بدلتی معاشی راہداری

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-05
in اداریہ
A A
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

            جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی کہانی ہمیشہ صرف سڑکوں اور پلوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ بقا، رسائی اور معیشت کی بحالی کی داستان بھی ہے۔ حالیہ پیش رفت—ڈگڈول-پانتھیال جڑواں سرنگوں کی تکمیل کے قریب پہنچنا اور وادی سے ریل کے ذریعے پارسل نقل و حمل کو فروغ دینے کی کوششیں—اسی بدلتی ہوئی کہانی کے دو اہم ابواب ہیں۔ بظاہر یہ دو الگ منصوبے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں ایک ہی بڑے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:کشمیر کو ایک قابلِ بھروسہ، تیز رفتار اور ہمہ موسمی معاشی راہداری میں بدل دینا۔

            جموں-سری نگر قومی شاہراہ، جسے این ایچ ۴۴ کے نام سے جانا جاتا ہے، طویل عرصے سے وادی کی زندگی کی شہ رگ رہی ہے۔ مگر یہی شاہراہ اکثر لینڈ سلائیڈنگ، برفباری اور خطرناک مقامات—خصوصاً ’خونی نالہ‘کی وجہ سے بندشوں کا شکار رہی ہے۔ ایسے میں ڈگڈول-پانتھیال جڑواں سرنگوں کا منصوبہ نہ صرف ایک تعمیراتی سرگرمی بلکہ ایک بنیادی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ تقریباً۸۶۶کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ سرنگیں نہ صرف سفر کے وقت کو کم کریں گی بلکہ اس پورے راستے کو زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنائیں گی۔

متعلقہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

            یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ انفراسٹرکچر کی بہتری ہمیشہ سیدھی لکیر میں اثر نہیں ڈالتی، بلکہ اس کے اثرات پرت در پرت سامنے آتے ہیں۔ جب سفر کا وقت کم ہوگا، تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات گھٹیں گے، سامان کی ترسیل تیز ہوگی، اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ ایک سیاح جو پہلے غیر یقینی حالات کے باعث کشمیر آنے سے ہچکچاتا تھا، اب بہتر سڑکوں اور کم خطرات کی وجہ سے زیادہ اعتماد کے ساتھ سفر کرے گا۔ یہی اعتماد معیشت کی روانی کو بڑھاتا ہے۔

            تاہم، یہ تصویر صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہتی۔ اسی کے ساتھ ساتھ ریل کے ذریعے پارسل سروس کو فروغ دینے کی حالیہ کوششیں ایک اور خاموش مگر طاقتور تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سری نگر میں منعقدہ ریلوے میٹنگ، جس میں تاجروں، باغبانوں اور کارگو ایگریگیٹرز نے شرکت کی، اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب توجہ صرف رسائی پر نہیں بلکہ مارکیٹ تک رسائی کے معیار پر بھی مرکوز ہو رہی ہے۔

            کشمیر کی معیشت، خاص طور پر پھلوں کی صنعت، ہمیشہ سے نقل و حمل کی مشکلات کا شکار رہی ہے۔ چیری، سیب اور دیگر پھل، جو وقت کے لحاظ سے حساس ہوتے ہیں، اکثر سڑکوں کی بندش یا تاخیر کے باعث نقصان اٹھاتے ہیں۔ ایسے میں بڈگام سے دہلی تک چلنے والی جے پی پی-آر سی ایس ٹرین ایک اہم متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں کام کرتا ہے تو یہ نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ کسانوں اور تاجروں کو بہتر قیمت بھی دلوا سکتا ہے۔

            یہاں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف ہم سڑکوں کو بہتر بنا رہے ہیں، دوسری طرف ریل کو متبادل کے طور پر مضبوط کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ دو الگ سمتیں لگتی ہیں، مگر درحقیقت یہی تنوع ایک مضبوط معیشت کی بنیاد بنتا ہے۔ جب ایک راستہ بند ہو، دوسرا کھلا ہو—یہی وہ لچک ہے جو کسی خطے کو بحرانوں سے نکال کر استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔

            لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف انفراسٹرکچر کی بہتری کافی ہے؟ جواب شاید اتنا سیدھا نہیں۔ سرنگیں بنانا اور ریل سروس شروع کرنا ایک قدم ہے، مگر اصل چیلنج ان سہولیات کو مؤثر انداز میں چلانا، برقرار رکھنا اور عوامی سطح پر قابلِ رسائی بنانا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ریل کے ذریعے پارسل بھیجنے کا نظام پیچیدہ یا مہنگا رہا، تو چھوٹے کسان اس سے فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے۔ اسی طرح، اگر سرنگوں میں حفاظتی نظام اور دیکھ بھال کا معیار برقرار نہ رکھا گیا، تو ابتدائی فائدے وقت کے ساتھ کم ہو سکتے ہیں۔

            یہاں پالیسی سازی کی باریکی سامنے آتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو صرف منصوبے مکمل کرنے پر نہیں بلکہ ان کے طویل مدتی اثرات پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ سبسڈی، تربیت، اور ڈیجیٹل سہولیات جیسے اقدامات چھوٹے تاجروں اور کسانوں کو اس نئے نظام سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

            ایک اور پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ اسٹریٹجک اہمیت ہے۔ جموں-سری نگر شاہراہ نہ صرف شہریوں بلکہ فوج اور سیکورٹی اداروں کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔ بہتر سڑکیں اور سرنگیں ہنگامی حالات میں تیز ردعمل کو ممکن بناتی ہیں، جو اس حساس خطے میں ایک اہم عنصر ہے۔ اس لحاظ سے یہ منصوبے صرف معاشی نہیں بلکہ دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

            اس تمام منظرنامے میں ایک بڑی تصویر ابھرتی ہے۔ایک ایسا کشمیر جو بتدریج تنہائی سے نکل کر قومی اور عالمی منڈیوں سے جڑ رہا ہے۔ سرنگیں پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بناتی ہیں، اور ریل پٹریاں فاصلے سمیٹ دیتی ہیں۔ مگر اصل تبدیلی ذہنیت میں آتی ہے:جب ایک خطہ خود کو بند گلی کے بجائے ایک راہداری کے طور پر دیکھنے لگے۔

            پھر بھی، کچھ سوالات باقی رہتے ہیں۔ کیا یہ ترقی مقامی سطح پر روزگار پیدا کرے گی؟ کیا اس کے فوائد یکساں طور پر تقسیم ہوں گے، یا صرف بڑے تاجروں تک محدود رہیں گے؟ اور کیا ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے؟

            یہ سوالات شاید فوری جوابات نہ مانگتے ہوں، مگر ان پر غور کیے بغیر ترقی کی کہانی ادھوری رہتی ہے۔ کیونکہ ترقی صرف رفتار کا نام نہیں، بلکہ توازن کا بھی تقاضا کرتی ہے۔

            آخر میں، ڈگڈول-پانتھیال سرنگیں اور ریل پارسل سروس دونوں مل کر ایک نئے کشمیر کی جھلک دکھاتے ہیں۔ایک ایسا کشمیر جو زیادہ جڑا ہوا، زیادہ مستحکم اور معاشی طور پر زیادہ متحرک ہے۔ مگر یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 اسمبلی میں پرائیویٹ یونیورسٹیز بل منظور

Next Post

یو این:انسانیت کا دشمن ادارہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ایل جی سنہا کا ’غیر قانونی‘ ہوٹلوں کی تعمیر کا انکشافـ:

2026-07-30
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

کشمیر کی بیٹ انڈسٹری‘ایک مثبت کہانی

2026-07-29
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

 حج درخواستوں میں تشویشناک کمی:

2026-07-28
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

جنتر منتر احتجاج اور کشمیری سیاستدان

2026-07-26
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

مہنگائی بڑھتی رہی، حکومت خاموش رہی

2026-07-25
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

ہماری اپنی غلطیاں تباہی کو دعوت دے رہی ہیں

2026-07-23
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

۲۰۱۴ سے کوئی سبق کیوں نہیں سیکھا گیا؟

2026-07-22
آگ سے متاثرین کی امداد
اداریہ

سمارٹ سٹی جو بالکل بھی سمارٹ نہیں ہے

2026-07-21
Next Post
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟

یو این:انسانیت کا دشمن ادارہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.