یہ ایک ایسا بل ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام اور انضمام کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا:ایتو
بل کی منظوری سنگ میل قرار/ اس قانون سازی سے یونین ٹیریٹری میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا ہوں گے:عمر
جموں؍۴؍ اپریل
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آج جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹیز بل‘۲۰۲۶ (ایل اے بل نمبر۰۸آف۲۰۲۶) منظور کر لیا، جس کا مقصد یونین ٹیریٹری میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام اور ان کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر تعلیم سکینہ ایتو کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں کہا گیا’’یہ ایک ایسا بل ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر میں نجی یونیورسٹیوں کے قیام اور انضمام کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا، اور ان کے نظم و نسق، انتظامیہ اور تعلیمی معیار کو منظم کرنا ہے تاکہ معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جا سکے اور طلبہ کے مفادات کا تحفظ ہو سکے‘‘۔
بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ حکومت نے اس قانون کی تیاری سے قبل جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی شعبے سے متعلق تمام مسائل اور خدشات کو مدنظر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل نجی یونیورسٹیوں کے قیام کی راہ ہموار کرے گا اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو فروغ دے گا۔
ایتو نے مزید کہا کہ اس اقدام سے جموں و کشمیر کے اُن طلبہ کو فائدہ پہنچے گا جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ریاست جانا پڑتا ہے۔
اراکین اسمبلی میر سیف اللہ، نظام الدین بٹ، پیرزادہ فاروق احمد شاہ اور تنویر صادق نے بل پر ترامیم پیش کی تھیں، تاہم وزیر تعلیم کی یقین دہانیوں کے بعد انہوں نے اپنی ترامیم واپس لے لیں۔
اراکین میں بلونت سنگھ منکوٹیا کی جانب سے پیش کی گئی ایک ترمیم کو ووائس ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیا گیا۔بعد ازاں اسپیکر نے بل کو ووائس ووٹ کے لیے پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔
اس دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وزیر تعلیم سکینہ ایتو اور دیگر متعلقہ فریقین کو مبارکباد دیتے ہوئے جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹیز بل کی منظوری کو نوجوانوں کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا’’جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے آج پرائیویٹ یونیورسٹیز بل منظور کیا ہے، جو ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے‘‘۔
بل کے وسیع تر وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس قانون سازی سے یونین ٹیریٹری میں معیاری اعلیٰ تعلیم کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، طلبہ کو تعلیم کے لیے باہر جانے کی ضرورت میں نمایاں کمی آئے گی اور معروف تعلیمی اداروں کو جموں و کشمیر میں اپنے کیمپس قائم کرنے کی ترغیب ملے گی۔
وزیرا علیٰ نے زور دیا کہ یہ اقدام تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، جدت طرازی کو فروغ دینے اور تعلیم و تحقیق کے لیے ایک متحرک ماحول قائم کرنے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ اس بل کی منظوری جموں و کشمیر کو اعلیٰ تعلیم اور تعلیمی معیار کے ایک ابھرتے مرکز کے طور پر قائم کرنے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
اس سے قبل بجٹ اجلاس کے آخری دن وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بل کو غور و خوض اور منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا تھا۔بعد ازاں اسپیکر نے بل کو ووائس ووٹ کے لیے پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔
اسی دوران ایوان نے جموں و کشمیر جن وشواس دوسرا (ترمیمی دفعات) بل بھی منظور کیا، جسے وزیر زراعت جاوید احمد ڈار نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے غور و منظوری کے لیے پیش کیا۔
بل پیش کرتے ہوئے جاوید احمد ڈار نے کہا، ’’یہ بل بعض قوانین میں ترمیم، جرائم کو غیر مجرمانہ بنانے اور کاروبار و روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہے، نیز بعض قوانین کو منسوخ کرنے کی بھی تجویز دیتا ہے‘‘۔
یہ بل بھی اسپیکر کی جانب سے ایوان میں پیش کیے جانے کے بعد منظور کر لیا گیا۔










