’۳۴ ہزار کروڑ روپے کی بچت واپس نہ کی گئی‘رپورٹ میں حقیقت پسندانہ بجٹ سازی اور اخراجات پر سخت کنٹرول کی ضرورت پر زور
(ویب ڈیسک )
سری نگر/۴؍اپریل
بھارت کے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے جموں و کشمیر میں مالی نظم و نسق کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ۲۰۲۳۔۲۴کے دوران مختلف محکموں نے۳۴ہزار کروڑ روپے سے زائد کی بچت واپس نہیں کی، جو مقررہ بجٹ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
سی اے جی نے مالی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے حقیقت پسندانہ بجٹ سازی اور اخراجات پر سخت کنٹرول کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر بجٹ مینوئل کے تحت محکموں کو متوقع بچت کو محکمہ خزانہ کے حوالے کرنا لازمی ہوتا ہے، تاہم۳۶گرانٹس اور دو تخصیصات کے تحت ایک کروڑ روپے سے زائد کی بچت کے۳۶معاملات میں مجموعی طور پر 34,917.96 کروڑ روپے واپس نہیں کیے گئے، جو کل کا تقریباً 32.99 فیصد بنتا ہے۔
آڈٹ میں مزید بتایا گیا کہ 1,04,178.32 کروڑ روپے کی کل گرانٹس کے مقابلے میں اصل خرچ 69,260.36 کروڑ روپے رہا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں بچت سامنے آئی۔
اسی طرح 2023-24 کے لیے 1,57,212.90 کروڑ روپے کی فراہمی کے مقابلے میں 1,26,054.97 کروڑ روپے خرچ ہوئے، یعنی 31,157.93 کروڑ روپے کی بچت ہوئی جو واپس نہیں کی گئی۔
سی اے جی نے نشاندہی کی کہ مجموعی اخراجات کل منظوری کے مقابلے میں تقریباً۲۰فیصد کم رہے، جبکہ۲۸ گرانٹس کے تحت۴۵ معاملات میں۱۰۰کروڑ روپے سے زائد کی بچت واپس نہیں کی گئی اور۳۷معاملات میں تین برسوں سے مسلسل زائد بچت دیکھی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دس اہم محکموں میں نصف سے زائد فنڈز غیر استعمال شدہ رہے، جن میں قبائلی امور، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، صنعت و تجارت، منصوبہ بندی، آبپاشی و فلڈ کنٹرول، باغبانی، زراعت، ثقافت، ماہی پروری اور محکمہ اطلاعات شامل ہیں۔
مزید برآں، سی اے جی نے سنگین ضابطہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 2023-24 کے دوران 5,214.45 کروڑ روپے ایسے منصوبوں پر خرچ کیے گئے جن کے لیے بجٹ میں کوئی گنجائش ہی موجود نہیں تھی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2019 سے مارچ 2024 تک 19,610.17 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات بغیر مناسب منظوری کے کیے گئے، جن میں سے 3,760.84 کروڑ روپے صرف 2023-24 میں خرچ ہوئے۔
سی اے جی نے خبردار کیا کہ اس طرح کے بے ضابطہ اخراجات مالی نظم و ضبط اور قانون ساز کنٹرول کو کمزور کرتے ہیں اور انہیں جلد از جلد باقاعدہ بنایا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں اضافی بجٹ کی منصوبہ بندی کو بھی ناقص قرار دیا گیا، جہاں 588.69 کروڑ روپے کی اضافی رقم غیر ضروری ثابت ہوئی، جبکہ دوسری جانب 5,348.98 کروڑ روپے کی اضافی منظوری ناکافی رہی جس کے نتیجے میں 3,471.06 کروڑ روپے کا زائد خرچ ہوا۔
ایک اہم نکتے کے طور پر رپورٹ میں کہا گیا کہ ۳۱گرانٹس کے تحت۱۶۰اسکیموں کے لیے مختص 10,597.90 کروڑ روپے مکمل طور پر غیر استعمال شدہ رہے، جس کے باعث عوام کو متوقع فوائد نہیں مل سکے۔
رپورٹ میں مالی سال کے اختتام پر جلد بازی میں اخراجات کرنے کی نشاندہی بھی کی گئی، جہاں مارچ۲۰۲۴میں کئی مدات کے تحت۵۰فیصد سے زائد اخراجات کیے گئے۔
محکمہ خزانہ نے اپنے جواب میں کہا کہ یہ بچت مرکزی اسکیموں کے تحت کم موصولیوں اور سرمایہ جاتی اخراجات میں کمی کے باعث ہوئی، تاہم اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔
سی اے جی نے حکومت کو ہدایت دی کہ حقیقت پسندانہ بجٹ سازی، بہتر مالی نگرانی، اضافی اخراجات کو باقاعدہ بنانے اور ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ اس طرح کی خامیوں سے بچا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔










