ایتو نے’دودھ اور ٹافیاں‘بیان کا حوالہ دے کر اپوزیشن کو جواب دیا
جموں؍۴؍اپریل
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ہفتہ کے روز وزیر تعلیم سکینہ ایتو اور پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید الرحمان پرہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے کو ملا، جہاں وزیر نے ۲۰۱۶ کے’دودھ اور ٹافیاں‘ والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اپوزیشن کو جواب دیا۔
یہ گرما گرم بحث اس وقت شروع ہوئی جب پی ڈی پی کے رہنما رفیق احمد نائیک نے اسکولوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق سوال اٹھایا، جس کے جواب میں سکینہ ایتو نے نہ صرف وضاحت پیش کی بلکہ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
ایتو نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں تبدیلی اور اگست۲۰۱۹ میں دفعہ۳۷۰ کی منسوخی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
وزیر نے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے۲۰۱۶ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس وقت احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ’دودھ یا ٹافیاں لینے نہیں گئے تھے‘ اور اسی بیان کو انہوں نے اپنی تقریر کے دوران متعدد بار دہرایا۔
ایوان میں شور شرابے کے دوران وحید الرحمان پرہ نے بھی نیشنل کانفرنس حکومت پر تنقید کی، تاہم ان کی باتیں ہنگامہ آرائی کے باعث واضح طور پر سنائی نہیں دے سکیں۔ انہوں نے وزیر تعلیم پر ذاتی نوعیت کا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایم بی بی ایس مکمل نہ کرنے کے باوجود محکمہ تعلیم سنبھال رہی ہیں۔
ایتو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن کا ہے، جس پر سب کو توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ۲۰۱۴سے پہلے عمر عبداللہ کی حکومت کے دوران تقریباً۸۴۲اسکول اپ گریڈ کیے گئے تھے، لیکن بعد میں پی ڈی پی،بی جے پی حکومت کے دوران ان تجاویز کو روک دیا گیا۔
ایتو نے مزید کہا کہ۲۰۱۹کے بعد محکمہ تعلیم میں کوئی بھرتی نہیں ہوئی اور موجودہ چیلنجز کے لیے پی ڈی پی کو ذمہ دار قرار دیا۔
وزیر نے کہا’’اگر آج ہم ریاست سے یونین ٹیریٹری بن گئے ہیں، اگر ہمارا خصوصی درجہ ختم ہو گیا ہے، تو اس کی وجہ یہی پارٹی ہے‘‘، جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
ایتو نے پرہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں ایوان میں کاغذات پھاڑنے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم ڈرامہ بازی پر یقین نہیں رکھتے، ہم عملی کام پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ہمیں سب معلوم ہے کہ آپ کے پیچھے کون ہے اور کون آپ کو چلا رہا ہے‘‘۔
وزیر نے اس موقع پر ایک بار پھر۲۰۱۶ کے متنازعہ بیان کا حوالہ دیا اور اپوزیشن کو عوامی مسائل پر بات کرنے کا مشورہ دیا۔










