یہ انکوائری اس واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ انصاف فراہم ہو:ایل جی سنہا
یو ٹی کے محکمہ داخلہ کا گاندربل کے ضلع مجسٹریٹ کو انکوائری سات دن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت
ویب ڈیسک
سرینگر؍۳؍اپریل
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز گاندربل ضلع میں پیش آنے والے ایک انکاؤنٹر کی مجسٹریل جانچ کا حکم دیا ہے، جس میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک مبینہ دہشت گرد مارا گیا تھا۔
کئی مرکزی دھارے کے رہنماؤں، جن میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی شامل ہیں، نے اس انکاؤنٹر پر سوالات اٹھائے تھے، جو منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں سنہا نے کہا’’میں نے ارہامہ، گاندربل واقعے کی مکمل اور غیر جانبدار مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ یہ انکوائری اس واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور یہ یقینی بنائے گی کہ انصاف فراہم ہو‘‘۔
ہلاک ہونے والے نوجوان ‘راشد احمد مغل کے خاندان نے دعویٰ کیا تھا کہ متوفی کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
عمرعبداللہ نے جمعرات کو کہا تھا’’میرا ماننا ہے کہ خاندان کے دعوے کو سرسری طور پر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ کم از کم اس انکاؤنٹر کی ایک شفاف اور وقت مقررہ جانچ ہونی چاہیے جس کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے ایکس پر کہا’’جانچ کے اعلان میں کسی بھی قسم کی پردہ پوشی یا تاخیر ساکھ کو نقصان پہنچائے گی اور یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے‘‘۔
جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے گاندربل کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ انکوائری سات دن کے اندر مکمل کی جائے۔
محکمہ داخلہ نے ضلع مجسٹریٹ گاندربل کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا’’براہ کرم ارہامہ گاندربل میں یکم اپریل ۲۰۲۶کو پیش آنے والے انکاؤنٹر کا حوالہ دیا جاتا ہے، جس میں راشد احمد مغل ولد مرحوم گل زمان مغل، ساکن چونٹ والی وار، لار، گاندربل کی موت واقع ہوئی‘‘۔
محکمہ داخلہ نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے اور اسی کے مطابق’’آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں مکمل اور غیر جانبدار مجسٹریل انکوائری کروائی جائے تاکہ راشد احمد مغل کی موت کے حالات و واقعات کا پتہ چلایا جا سکے‘‘۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے ’’انکوائری سات دن کے اندر مکمل کی جائے اور رپورٹ محکمہ داخلہ کو پیش کی جائے‘‘۔
دریں اثنا، قانون ساز اسمبلی کے رکن (ایم ایل اے) کنگن، میاں مہر علی نے گاندربل ضلع کے ارہامہ علاقے میں ایک مقامی نوجوان کی مبینہ انکاؤنٹر میں ہلاکت کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
جاری بیان میں، میاں مہر علی نے مقامی نوجوان راشد احمد مغل کی ہلاکت پر وقت مقررہ عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا، جس کے بارے میں خاندان کا کہنا ہے کہ اس کا عسکریت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
ایم ایل اے کنگن نے کہا’’ولی وار کے خاندان اور مقامی لوگوں کے خدشات، جو ایک مقامی نوجوان راشد احمد مغل کی انکاؤنٹر میں ہلاکت سے متعلق ہیں، مکمل جانچ کے متقاضی ہیں، اور ہم اس معاملے میں وقت مقررہ عدالتی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے مجسٹریل انکوائری کا حکم دیا گیا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک عدالتی انکوائری بھی شروع کی جائے تاکہ معاملے کی مکمل چھان بین ہو سکے اور انصاف یقینی بنایا جا سکے۔
دریں اثنا، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعرات کو ’گاندربل انکاؤنٹر‘ کی منصفانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انکاؤنٹر، جس میں ایک مقامی دہشت گرد مارا گیا، کے حوالے سے یہ الزامات سامنے آ رہے ہیں کہ یہ’فرضی‘ تھا۔
فوج نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ضلع کے لار علاقے سے تعلق رکھنے والا ایک مقامی دہشت گرد، راشد احمد مغل، ارہامہ علاقے میں رات کے انکاؤنٹر میں مارا گیا۔
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا’’ارہامہ میں ایک انکاؤنٹر ہوا جس میں۲۹سالہ مقامی نوجوان راشد مغل مارا گیا۔ الزامات ہیں کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔ فوج نے پہلے کہا کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسند تھا، پھر کہا گیا کہ وہ ایک مقامی تھا جس کے عسکریت سے روابط تھے‘‘۔
پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ راشد ایک یتیم تھا جو ایک این جی او چلاتا تھا۔ ’’اس کی لاش بھی خاندان کے حوالے نہیں کی گئی‘اسے بارہمولہ میں دفن کیا گیا۔ ہمارے نوجوانوں کے ساتھ یہی ہو رہا ہے۔‘‘










