تو صاحب خبر …….ایک دم تازہ خبر ‘ جو کسی بھی طرح فیک نیوز نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے یہ ہے کہ اسمبلی……. جموںکشمیر کی اسمبلی میں فیک نیوز اور غلط معلومات کے طوفان …….طوفان نہیں بلکہ وبا پر تشویش کا اظہار کیا گیا …….سبھی جماعتوں نے اس کو ایک ’گھمبیر ‘ مسئلہ قرار دیتے ہو ئے اس پر قابو پانے پر زور دیا ……. چاہے اس کیلئے قانون سازی بھی کرنی پڑے تو ……. تو سبھی جماعتوں میں اتفاق رائے تھا کہ قانون سازی کی جائے …….اپنے اسپیکر صاحب بھی ایسا ہی چاہتے تھے ۔صاحب ! ہم بھی اسے ایک مسئلہ سمجھتے ہیں ……. ایک سنجیدہ مسئلہ ‘ جسے حل کیا جانا چاہئے اور ……. اور اس لئے حل کیا جانا چاہئے کہ فیک نیوز اور غلط معلومات کی وبا کسی بھی معاشرے کیلئے فائدہ نہیں ہو سکتی ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو سکتی ہے ۔ لیکن ……. لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس مسئلہ کو حل کیسے کیا جائے …….چھوٹا منہ بڑی بات نہ ہو جائے ‘ اگر ہم اس کا حل تجویز کریں تو …….اور پھر اس حل پر عمل کیا جائے یا اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے تو صاحب ہمیں یقین ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو جائےگا ‘ یہ وبا ختم ہو جائے گی اور اس وبا کو ختم کرنے کیلئے کسی ویکسین کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی ۔کرنا کچھ نہیں ہے ……. کچھ زیادہ نہیں کرنا ہے اور اس لئے نہیں کرنا ہے کہ ……. کہ فیک نیوز پر قابو پایا جا سکتا ہے اگر آپ فیک جرنلسٹوں ‘ یعنی جعلی صحافیوںپر قابو پالیں گے کہ ……. کہ فیک نیوز کا ماخذ کوئی اور نہیں بلکہ یہ فیک صحافی ہو تے ہیں …….جو ہاتھ میں موبائل اور سستی سی مائک لئے صحافی ……. خود ساختہ صحافی بن جاتے ہےں ……. ہر گلی اور کوچے میں بن جاتے ہیں ‘ بن گئے ہیں ۔ بس آپ انہیں کنارے لگائیے ‘ انہیں حاشیہ پر رکھ کیجئے ‘ فیک نیوز خود بخود ختم ہو جائے گی کہ جب فیک نیوز دینے والے ہی نہیں رہیں گے تو ……. تو فیک نیوز آئے گی کہاں سے ؟ لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ فیک جرنلسٹوں …….یا کتنے فیک جرنلسٹوں کو حکومت در کنار کرے گی کہ……. کہ صاحب اب تو ان کی ہی اکثریت ہے ‘ اب تو یہیں زیادہ تعداد میں ہیں ‘ غالب اکثریت ان کی ہی ہے اور ……. اور جو فیک جرنلسٹ نہیں ہیں ‘ جو حقیقی صحافی ہیں ‘ جو حقیقی خبریں لوگوں تک پہنچاتے ہیں ……. ان کی تعداد کم ہے اور انہیں سننے اور پڑھنے والوں کی تعداد بھی ان جتنی ہی ہے ۔ ہے نا؟




