جمعہ, ستمبر 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

 اسمبلی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-03-29
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
 اسمبلی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

واقعہ کو نہایت تشویشناک اور سنگین سیکورٹی کوتاہی قرار دیا گیا

ایجنسیز

متعلقہ

’جموںکشمیر اپنی کہانیاں خود بیان کرے ‘

لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان

جموں؍۲۸مارچ

            جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے ہفتہ کے روز نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

            حکومتی اور اپوزیشن بنچوں نے پارٹی خطوط سے بالاتر ہو کر اس واقعے کو نہایت تشویشناک اور ایک سنگین سیکورٹی کوتاہی قرار دیا۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ حملہ آور کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔

            ڈاکٹر فاروق عبداللہ‘جو سابق وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں‘۱۱مارچ کو ایک معجزانہ طور پر محفوظ رہے جب۶۳ سالہ کمل سنگھ، جو جموں کے پرانی منڈی علاقے کا رہائشی ہے، نے گریٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران ان پر نزدیک سے فائرنگ کی۔ حملہ آور کو موقع پر ہی قابو میں لے کر ریوالور سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

            پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے جو ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) کی نگرانی میں کام کر رہی ہے۔

            ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی نیشنل کانفرنس کے متعدد اراکین نے اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو مطلع کیا کہ انہوں نے اس حملے پر بحث کے لیے التوا کی تحریک پیش کی ہے۔

            تاہم اسپیکر نے پہلے وقفہ سوالات کو پرامن طور پر مکمل کرایا اور بعد ازاں اس معاملے پر بحث کی اجازت دے دی۔

            اسپیکر نے کہا’’مجھے نیشنل کانفرنس کے کئی اراکین کی جانب سے التوا کی تحریک کا نوٹس موصول ہوا ہے‘اسے ایک گھنٹہ پہلے پیش کیا جانا چاہیے تھا، لیکن چونکہ یہ معاملہ ایوان کے تمام اراکین کے لیے سنجیدہ تشویش کا باعث ہے، اس لیے میں بغیر التوا کی تحریک کے بحث کی اجازت دیتا ہوں‘‘۔

            بی جے پی کے رکن سریجیت سنگھ سلاتھیا نے کہا کہ وہ اس بحث کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک قدآور سیاسی شخصیت ہیں۔

            اس موقع پرپیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نےدعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے انہیں اپنے والد عبدالغنی لون کے جنازے میں شرکت کیلئے سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جنہیں۲۰۰۲ میںدہشت گردوں نے قتل کر دیا تھا۔

            لون نے کہا کہ انہوں نے اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا، لیکن حکومت نے یہ فراہم نہیں کی۔

            پیپلز کانفرنس کے رکن اسمبلی نے کہا’’مجھے وہ لمحے یاد ہیں جب میرے والد کو قتل کیا گیا۔ اگلے دن ہمیں انہیں اسی جگہ دفن کرنا پڑا جہاں ان پر حملہ ہوا تھا—مبارک گل صاحب کے حلقے میں، اس مقام سے صرف۱۰۰ فٹ کے فاصلے پر جہاں انہیں گولی ماری گئی۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، میں کوئی سیاسی پوائنٹ اسکور نہیں کرنا چاہتا، لیکن اس حکومت نے مجھے وہاں جانے کیلئے سکیورٹی نہیں دی‘‘۔

            لون نے مزید بتایا کہ اس وقت کے کشمیر کے ڈویژنل کمشنر پرویز دیوان نے انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر وہ عیدگاہ جنازے میں گئے تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، پرویز دیوان نے انہیں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ نشانہ بن سکتے ہیں۔

            رکن اسمبلی کے مطابق، انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے چند پولیس اہلکاروں کی درخواست کی تھی، لیکن حکومت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے پولیس اہلکاروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

            لون نے کہا کہ وہ یہ بات ایک بیٹے کے طور پر کر رہے ہیں اور کشمیر میں ہزاروں ایسے بیٹے ہوں گے جنہوں نے اسی طرح کا کرب جھیلا ہوگا۔

            پیپلز کانفرنس کے صدر نے کہا کہ نظریاتی اختلافات کسی فرد کو سکیورٹی سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بننے چاہئیں۔ ’’جب میرے والد شہید ہوئے، اس وقت ڈاکٹر فاروق عبداللہ اقتدار میں تھے۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں، وہ بے بس تھے۔ میرے والد انتخابات نہیں لڑ رہے تھے؛ وہ ایک علیحدگی پسند تھے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے نظریاتی اختلافات ہوں تو کیا ہمیں کسی شخص کو سکیورٹی نہ دے کر مرنے دیا جائے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے۔ اور ان کے معاملے میں یہی ہوا۔ سب جانتے تھے کہ انہیں قتل کیا جائے گا—یہ عام گفتگو کا حصہ تھا‘‘۔

            لون نے کہا کہ ہر حکومت نے سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے۔’’آج کی حکومت جو کچھ کر رہی ہے، وہی سب پہلے کی حکومتیں بھی کرتی رہی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اور اگر کوئی کہے کہ ہم نے اس کا غلط استعمال نہیں کیا، تو وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ہر حکومت نے سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا ہے‘‘۔

            لون نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جموں و کشمیر کی سیاست کی سب سے ’رنگین اور متحرک‘ شخصیات میں سے ایک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ محض ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک زندہ دل انسان ہیں۔ ’’سیاست سے ہٹ کر، فاروق صاحب ہماری طرف اور پورے ملک کیلئے ایک نہایت متحرک شخصیت رہے ہیں—ہمیشہ ہنستے مسکراتے، خوش مزاج اور بذلہ سنج۔‘‘

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’پاکستان اب بھی ہندوستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروپوں کو پناہ دے رہا ہے‘

Next Post

’ایندھن کی کوئی قلت نہیں‘افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

حکومت جموںکشمیر میں جنگل راج کی اجازت نہیں دے گی ‘
اہم ترین

’جموںکشمیر اپنی کہانیاں خود بیان کرے ‘

2026-09-11
لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان
اہم ترین

لداخ کو آرٹیکل۳۷۱کے تحت آئینی تحفظات، منفرد طرز کا منتخب ادارہ ملنے کا امکان

2026-09-11
لال قلعہ ہدف نہیں بلکہ لال مندر ہدف تھا ‘لیکن ٹریفک نے خودکش بمبار کا رخ بدل دیا
اہم ترین

لال قلعہ ہدف نہیں بلکہ لال مندر ہدف تھا ‘لیکن ٹریفک نے خودکش بمبار کا رخ بدل دیا

2026-09-11
’بی جے پی کا قانونی نوٹس ’محبت نامہ‘اور باعث اعزاز ہے ‘
اہم ترین

’یہ تاریخی حقیقت ہے، معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں‘

2026-09-11
بی جے پی ٹرانسپورٹ سیل کی سرینگر میں ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں
اہم ترین

بی جے پی ٹرانسپورٹ سیل کی سرینگر میں ٹرانسپورٹرز سے ملاقاتیں

2026-09-11
اے سی بی کی کارروائی کے بعد فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے چار اہلکار معطل
اہم ترین

ڈوڈہ میں وائرل ویڈیو کے بعد پنچایت سیکریٹری معطل

2026-09-11
کپوارہ میں سرکاری ملازم منشیات فروش نکلا‘ گرفتار، براؤن شوگر بر آمد
اہم ترین

ریاسی میں مبینہ طور پر رشوت  لیتے ہو ئے پولیس افسر گرفتار

2026-09-11
وادی کے بالائی علاقوں میں تازہ برفباری‘ میدانی علاقوں میں موسلادھار بارش
اہم ترین

ڈی جی پی کا ڈوڈہ، کٹھوعہ  اور اودھم پور کے سنگم پر  مشترکہ سکیورٹی پوسٹ کا دورہ

2026-09-11
Next Post
’ایندھن کی کوئی قلت نہیں‘افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے‘

’ایندھن کی کوئی قلت نہیں‘افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.