ملیرکوٹلہ؍۲۸ مارچ
پنجاب پولیس نے جموں و کشمیر پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان سے مبینہ طور پر منسلک دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت ابّو گابا اور عثمان کے طور پر ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے ملیرکوٹلہ میں کرائے کے مکان میں مقیم تھے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے ’یُدھ نشیاں وِردھ‘ مہم کے تحت ایک مقامی منشیات فروش سے پوچھ گچھ کی، جس دوران ان دونوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کی شناخت جموں و کشمیر میں مطلوب دہشت گردوں سے میل کھاتی ہے۔
اگرچہ پولیس کی جانب سے باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم متعدد پولیس ذرائع اور سنداور تھانے کے تحت آنے والے گاؤں شیروانی کوٹہ کے مقامی افراد نے اس کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق ملزمان گزشتہ۱۵ برسوں سے ملک کے مختلف حصوں میں مقیم رہے اور کسی کو ان کی سرگرمیوں پر شبہ نہیں ہوا، نہ ہی ان کے خود کو بھارتی شہری ظاہر کرنے پر کوئی سوال اٹھایا گیا۔
ملیرکوٹلہ کے مہورانہ علاقے میں قائم سی آئی اے ونگ کی ایک ٹیم نے شیروانی کوٹہ گاؤں میں چھاپہ مار کر دونوں کو حراست میں لیا، جنہیں بعد ازاں جموں و کشمیر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
گاؤں کے سرپنچ سمرنجیت سنگھ نے بھی تصدیق کی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کیا ہے، تاہم سی آئی اے انچارج ہرجندر سنگھ نے اس چھاپے اور گرفتاریوں سے لاعلمی ظاہر کی۔
واضح رہے کہ ملیرکوٹلہ پولیس نے حالیہ عرصے میں ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ایک حالیہ کیس میں سی آئی اے اور سائبر کرائم ونگ نے تین مقامی افراد—فرحان انجم، عدنان خان اور وارس علی—کو مذہب کے نام پر نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جن کے قبضے سے اسلحہ اور موبائل فون بھی برآمد کیے گئے تھے۔
اس سے قبل ایک سرحد پار جاسوسی کیس میں گجالا نامی خاتون اور یامین محمد کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جن پر پاکستان کیلئے معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔
پولیس نے تازہ کارروائی کی مزید تفصیلات خفیہ رکھی ہیں، جبکہ تحقیقات جاری ہے۔










