سرینگر؍۲۸مارچ
جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ بجلی معافی اسکیم کے تحت عوام کو راحت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور مالی سال کے اختتام سے قبل ٹیکس اور یوٹیلٹی بلوں کی سخت وصولی کر کے لوگوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔
پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
پی ڈی پی رہنما اقبال ترمبو نے احتجاج کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت۳۱مارچ کو مالی سال ختم ہونے سے پہلے ٹیکس اور یوٹیلٹی بلوں کی زبردستی وصولی کر رہی ہے، جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ بے روزگاری اور عوامی فلاح کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
ترمبو نے الزام لگایا کہ مالی سال کے اختتام کے نام پر لوگوں کے بجلی کنکشن منقطع کیے جا رہے ہیں، بلدیاتی ٹیکس زبردستی وصول کیے جا رہے ہیں اور عوام کو پانی کے پرانے بل تھمائے جا رہے ہیں۔
پی ڈی پی رہنما نے مزید کہا کہ سرکاری ملازمین کو بھی تنخواہوں سے متعلق مسائل کا سامنا ہے جبکہ عام لوگوں پر بقایاجات ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے’۳۱مارچ کے نام پر کیا جانے والا ظلم‘ قرار دیا۔
ترمبو نے کہا کہ عوام بل ادا کرنے سے انکار نہیں کر رہے بلکہ اپنی معاشی مشکلات کے باعث مزید مہلت چاہتے ہیں۔ انہوں نے بجلی معافی اسکیم کی مدت میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی گزشتہ تین ماہ سے اس حوالے سے حکومت سے اپیل کر رہی ہے۔
پی ڈی پی لیڈر نے حکومت کی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ترجیحات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ۱۴۴ کروڑ روپے کی لاگت سے مجوزہ فلائی اوور جیسے منصوبے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف افسران اور سیاست دانوں کو فائدہ پہنچائیں گے۔
ترمبو نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ عوام پر مالی بوجھ بڑھانے کے بجائے اپنے وعدے پورے کرے اور لوگوں کو حقیقی راحت فراہم کرے۔










