نئی دہلی، 28 مارچ (یو این آئی) ہندوستانی ریلوے نے ریونیو شیئرنگ کی بنیاد پر خالی زمین کو لیز پر دینے کی اپنی نئی پالیسی کے تحت 2025-26 تک کل 900 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل کی ہے۔
یہ معلومات ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کے روز ریلوے کی اراضی پر غیر قانونی تجاوزات سے متعلق ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے فراہم کیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سابقہ یو پی اے حکومت کے دوران تشکیل دی گئی ریل لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کام کاج کو ہموار اور شفاف بنایا ہے۔ ریونیو کی بٹائی کی بنیاد پر کمرشیل یا رہائشی منصوبوں کے لیے ریلوے کی خالی زمین مختص کرنے کی پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت، لدھیانہ، دہلی، بھونیشور، بنگلور، اور چنئی جیسے شہروں میں کچھ ریلوے پلاٹ کھلے ٹینڈر کے ذریعے الاٹ کیے گئے تھے۔
ریلوے کے وزیر نے کہا کہ اس ریونیو شیئرنگ پالیسی سے 2025-26 تک ریلوے کو 900 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
مسٹر اشونی وشنو نے بتایا کہ ریلوے کی 4.99 لاکھ ہیکٹر اراضی میں سے 0.21 فیصد (تقریباً 1,068 ہیکٹر) غیر قانونی قبضے میں ہے۔ ان زمینوں کو واگزار کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً کارروائی کی جاتی ہے، اور گزشتہ پانچ سالوں میں 33.67 ہیکٹر کو کامیابی سے خالی کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ ریلوے کی زمینوں سے کچی آبادیوں کو ہٹانے کے لیے انسانی سوچ کی ضرورت ہوتی ہے، اور ریلوے اس کام کو ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر انجام دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے کی 80 فیصد زمین ریلوے ٹریکس کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ پانچ فیصد پٹریوں سے متصل محفوظ علاقے میں استعمال ہوتی ہے۔ 15 فیصد زمین ریلوے اسٹیشنوں، رہائش اور اسپتالوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کئی جگہوں پر زمین پر قبضہ سنگین مسئلہ ہے۔
مسٹر اشونی وشنو نے یہ بھی بتایا کہ ریلوے کی اراضی پر ناجائز تجاوزات کو روکنے کے لیے زمین کو ڈیجیٹائز کیا گیا ہے اور سٹیلائٹ یا ڈرون کے ذریعہ سروے، نگرانی اور نقشہ سازی کی جا رہی ہے۔
مسٹر اشونی وشنو نے وضاحت کی کہ اپ ڈیٹ شدہ نقشوں کا پچھلے نقشوں سے موازنہ کرکے، نئی تجاوزات کی نشاندہی کی جاتی ہے اور کارروائی کی جاتی ہے۔ اس سے تجاوزات کے واقعات میں کمی آئی ہے۔
اس کام میں ریاستی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے ایک کیس کا حوالہ دیا جہاں سورت، گجرات میں ریلوے کی زمین کو ریاستی حکومت کے تعاون سے واگزار کیا گیا تھا۔ ریلوے کے وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت طویل عرصے سے ریلوے کی زمین پر قائم کچی بستیوں میں رہنے والے لوگوں کو منتقل کرنے میں مدد کی۔
کانگریس کے رنجیت رنجن کے سولر پاور پروجیکٹس کے لیے خالی ریلوے زمین کے استعمال سے متعلق ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر اشونی ویشنو نے کہا کہ شمسی توانائی کے پروجیکٹوں کے لیے بڑے علاقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریلوے نے مدھیہ پردیش حکومت کے ساتھ مل کر 150 میگاواٹ کا سولر پاور پروجیکٹ قائم کیا ہے۔ ریلوے جہاں بھی ممکن ہو شمسی اور جوہری توانائی جیسے صاف توانائی کے متبادلوں کو اپنانے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔










