نئی دہلی، 12 مارچ (یو این آئی) ہندوستانی ریلوے نے مال ڈھلائی اور علاقائی کنیکٹی ویٹی کو مضبوط بنانے، مال ڈھلائی کی کارکردگی بڑھانے، بلا تعطل علاقائی کنیکٹی ویٹی کو یقینی بنانے اور پہلے و آخری میل کے مضبوط حل فراہم کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی حکمت عملی نافذ کی ہے۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے جمعرات کو لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ٹرمینلز پر ریل مال ڈھلائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے دو طرفہ طریقہ اپنایا ہے، جس میں ‘گتی شکتی ملٹی ماڈل کارگو ٹرمینل’ پالیسی کے تحت جدید ریل فریٹ ٹرمینلز کی ترقی کو فروغ دینا اور ریلوے کے اپنے مال گوداموں میں بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 5 مارچ تک 128 جی سی ٹی فعال ہو چکے ہیں اور 288 جی سی ٹی کے لیے اصولی منظوری جاری کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں مال اور پارسل ٹرمینلز پر صارفین کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مالی سال 24-2023، 25-2024 اور 26-2025 کے لیے 14,500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مسٹر ویشنو نے بتایا کہ وزارت ریلوے کے تحت ایک پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ، ‘کونکور’ بھی دہلی-کولکتہ اور ممبئی-کولکتہ سیکٹر میں ‘جوائنٹ پارسل پروڈکٹ – ریپڈ کارگو سروس’ کا استعمال کرتے ہوئے ڈور ٹو ڈور پارسل سروس فراہم کر رہا ہے۔ کونکور ‘سونک’ مال گودام میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ڈور ٹو ڈور لاجسٹکس بھی فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انڈیا پوسٹ کے ساتھ جے پی پی اقدام کا آغاز 2022 میں کچھ راستوں پر پائلٹ بنیادوں پر کیا گیا تھا تاکہ بزنس ٹو کسٹمر (B2C) اور بزنس ٹو بزنس (B2B) مارکیٹ کو ہدف بنایا جا سکے، جس میں ای کامرس اور خوردہ، چھوٹی و درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کی مارکیٹ پر توجہ دی گئی تھی۔ اس میں وزن کی کیٹیگری مارکیٹ کے رجحان کے مطابق 35 کلوگرام سے 100 کلوگرام کے درمیان سستی قیمت پر رکھی گئی تھی۔ اس اسکیم کے تحت انڈیا پوسٹ نے پہلے اور آخری میل کی سروس یعنی شروع سے لے کر آخر تک کی سروس فراہم کی اور ہندوستانی ریلوے نے درمیانی میل کی سروس فراہم کی۔










