شہریوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ حکومتی معاملات میں سرخ فیتہ شاہی میں نمایاں کمی لانے کی ہدایت
ڈی آئی پی آر
جموں؍۶مارچ
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کمپلائنس ریڈکشن اور ڈی ریگولیشن۲ء۰کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
یہ ایک جامع قومی اقدام ہے جس کا مقصد ضابطہ جاتی بوجھ کو کم کرنا اور جموں و کشمیر میں کاروبار دوست اور عوام مرکوز ماحول کو فروغ دینا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا’’ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ زندگی صرف صنعت کے لیے نہیں بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی آسان بنائی جائے‘‘۔
پروگرام کے پہلے مرحلے کے تحت جموں و کشمیر حکومت نے اصلاحات کے لیے۲۳ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی تھی اور تمام مقررہ اہداف کامیابی کے ساتھ حاصل کیے تھے۔ دوسرے مرحلے میں اسی بنیاد کو آگے بڑھاتے ہوئے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا گیا ہے اور۲۳نئے اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں صحت، تعلیم، سیاحت، صنعت اور دیگر شعبے شامل ہیں۔
اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری کے علاوہ وزراء سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما بھی شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری اٹل ڈلو اور وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیراج گپتا بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ فنانشل کمشنر و ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ توانائی اشوانی کمار، فنانشل کمشنر و ایڈیشنل چیف سیکریٹری محکمہ سیاحت ڈاکٹر آشیش چندر ورما سمیت دیگر سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے جاری اصلاحات کی موجودہ صورتحال پیش کی اور بتایا کہ اس اقدام کا مقصد کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے لیے درکار اجازت ناموں کی تعداد میں نمایاں کمی لانا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہر اصلاحاتی شعبے کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں سے واضح ٹائم لائن طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ ضابطوں کا مقصد نظام کو مؤثر طریقے سے منظم کرنا ہونا چاہیے نہ کہ عوام کے لیے غیر ضروری دفتری پیچیدگیاں پیدا کرنا۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف شعبوں میں سادہ اور براہ راست طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور شہریوں اور کاروباری اداروں کے ساتھ حکومتی معاملات میں سرخ فیتہ شاہی میں نمایاں کمی لانے کی ہدایت دی۔
اجلاس میں زمین کے استعمال، صنعت، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق متعدد ترجیحی امور پر بھی غور کیا گیا۔ زیر بحث معاملات میں عمارتوں کی اجازت اور دیہی و شہری علاقوں میں صنعتی زمین کے استعمال کو آسان بنانے کے لیے لینڈ یوز فریم ورک، کاروبار کے لیے دوہرے لائسنسنگ نظام کا خاتمہ اور صنعتی منظوریوں کے لیے ایک نوڈل ایجنسی کے کردار کو مضبوط بنانا شامل تھا۔ اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں کے لیے کم از کم تقاضوں کو آسان بنانے اور صحت کے شعبے میں میڈیکل پریکٹیشنرز کی رجسٹریشن کے لیے متحدہ لائسنسنگ نظام متعارف کرانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نظامی سطح پر اجلاس میں ڈیجیٹل گورننس کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ ان میں پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ (پی ایس جی اے) کے تحت شہری خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے آٹو اپیل میکانزم قائم کرنا اور تمام ریاستی قوانین، قواعد و ضوابط اور سرکاری احکامات کا ایک مرکزی ڈیجیٹل ذخیرہ تیار کرنا شامل ہے، تاکہ وقتاً فوقتاً مختلف ضابطوں کی افادیت کا جائزہ لیا جا سکے۔ سنگل ونڈو سسٹم کے تحت درخواستوں کی مکمل کارروائی کے وقت کو کم کرنا بھی ترجیحی امور میں شامل تھا۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ زیر غور ہر اصلاحاتی اقدام کے لیے قابلِ پیمائش ٹائم لائن پیش کی جائے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ضابطہ جاتی ماحول کو آسان بنانا جموں و کشمیر میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے مرحلے کے تحت ہونے والی پیش رفت سے شہریوں، کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو عملی فائدہ پہنچے۔










