سرینگر؍۶مارچ
وادیٔ کشمیر میں پانچ روز بعد ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل کالنگ سروسز بحال کر دی گئی ہیں، جس سے عوام کو عارضی پابندیوں کے بعد بڑی راحت ملی ہے۔
حکام کے مطابق مواصلاتی خدمات کی بحالی سے عوام کو پیش آنے والی مشکلات میں کمی آئے گی، خاص طور پر طلبہ اور کاروباری طبقے کو جو اپنی روزمرہ سرگرمیوں کے لیے انٹرنیٹ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ اور پری پیڈ کالنگ سروسز کی بحالی کے ساتھ ہی وادی میں ڈیجیٹل اور مواصلاتی سرگرمیوں کے بتدریج معمول پر آنے کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق خدمات کے ہموار عمل کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔
وادی کشمیر میں جمعہ کے روز سخت پابندیاں عائد رہیں اور کئی حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ حکام کے مطابق ممکنہ احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے پیش نظر خاص طور پر شیعہ اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی جب کہ متعدد مقامات پر امتناعی احکامات نافذ رہے۔
ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے جمعہ کے پیش نظر وادی کے مختلف علاقوں میں پابندیوں پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کو یقینی بنایا۔ دارالحکومت سری نگر سمیت کئی علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات کی گئی جبکہ اہم چوراہوں، مساجد اور حساس مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کی گئیں۔
احتیاطی تدابیر کے طور پر کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئیں تاکہ افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر صورتحال قابو میں رہی اور کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔










