نہیں جانتے تھے …….اللہ میاں کی قسم بالکل بھی نہیں جانتے تھے کہ ……. کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ اتنے معصوم ہیں …….ہم نہیں جانتے تھے ۔ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ جناب نے دنیا دیکھی ہے …….اور دنیا کو دیکھ کر انہیں دنیا سمجھ آئی ہو گی ‘ لیکن صاحب ایسی ان کی قسمت کہا ں کہ ہمیں لگتا ہے ……. ہمیں یقین ہے کہ دنیا دیکھ کر بھی عمرعبداللہ کورے کے کورے رہے ہیں……. سو فیصد کورے ۔ اگر ایسا نہیں ہو تا تو جناب یہ سوال نہیں کرتے …….دنیا سے یہ سوال نہیں کرتے کہ امریکہ اور اسرائیل نے کس قانون اور کس حق سے ایران پر حملہ کیا …….ان کا یہ سوال ہی یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ صاحب سچ میں اتنے معصوم ہیں جو یہ جناب ایسا سوال کررہے ہیں ……. کیا انہیں اتنا بھی معلوم نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے کس حق اور قانون کے تحت ایران پر حملہ کیا ؟خیرہم انہیں بتاتے ہیں کہ ایسا کس حق اور قانون کے تحت ہوا ہے ۔وزیر اعلیٰ صاحب! دونوں ممالک نے جس حق اور قانون کے تحت ایران پر حملہ کیا ہے یہ ایسا قانون اور حق ہے جو اب اس دنیا میں رائج ہے ۔ ایسا نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بغیر کسی حق یا قانون کے ایران پر حملہ کیا ……. نہیں وزیر اعلیٰ صاحب ایسا نہیں ہے ۔ دونوں ممالک نے ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے قانون اور حق کے تحت ایران پر حملہ کیا ……. اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی ……. اور اب بھی بجا رہے ہیں ۔ یہ وہی قانون اور حق ہے جس کے تحت کچھ ماہ پہلے امریکہ نے ایک آزاد اور خودمختار ملک کے صدر اور ان کی اہلیہ کو ان کے محل سے اغوا کرکے امریکہ پہنچا دیا ……. اسی حق اور قانون کے تحت اسرائیل نے غزہ کو زمین بوس کر دیا اور ۷۰ ہزار لوگوں کو ہلاک بھی ……. اسی حق اور قانون کے تحت اسرائیل فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کررہا ہے ……. وہاں نئی تعمیرات بنا رہا ہے ……. اور وزیر اعلیٰ صاحب!دنیا بھی اسی قانون اور حق کو تسلیم ہی نہیں کررہی ہے بلکہ اس کے سامنے سجدہ ریز بھی ہے ……. سرنگوں ہے ۔مثالیں اور بھی ہیں لیکن ہمیں امید سے زیادہ یقین ہے کہ اب وزیرا علیٰ کی سمجھ میں یہ بات آئی ہو گی کہ جس قانون اور حق کے تحت ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا ۔ ہے نا؟




