چلئے صاحب کوئی تو ہے جو اپنے راہل بابا کی حمایت کررہاہے اور سو فیصد کررہا ہے ۔ ورنہ جسے دیکھئے وہ راہل بابا کی مخالفت کرتا ہے …….پرائے تو پرائے اپنے بھی راہل بابا کی پیٹھ کے پیچھے ہی نہیں بلکہ آگے بھی …….ان کے سامنے سے بھی انہیں آنکھیں دکھاتے ہیں ……. ایسے میں اگر اپنے گورے گورے بانکے چھورے ‘وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ راہل بابا کی حمایت ہی نہیں بلکہ انہیں ایک قابل قائد حزب اختلاف قرار دیتے ہیں وہ بھی تب جب کانگریس کے لوگ ہی راہل نہیں بلکہ ممتا بینر جی کو انڈیا بلاک کا سربراہ بنانے کی وکالت کرتے ہیں تو ……. تو راہل بابا کیلئے اس سے بڑی خوشخبر کوئی اور نہیں ہو سکتی ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو سکتی ہے ۔یقین کریں کہ ہمیں خوشی ہے ‘ اس بات کی خوشی کہ کوئی تو ہے جو راہل بابا کی حمایت میں دو چار بول بولنے کیلئے تیار ہے ……. دو چار بول بورہا ہے ‘ لیکن ……. لیکن صاحب اس کا یہ مطلب نہیں ہے اور ……. اور بالکل بھی نہیں ہے کہ ہم راہل بابا کو کلین چٹ دیں ‘ نہیں صاحب ایسا ممکن نہیں ہے ……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ وہ کیا ہے کہ راہل بابا یقیناً قائد حزب اختلاف کا رول اچھی طرح سے نبھارہے ہوں ‘ لیکن ……. لیکن صاحب کیا قائد حزب اختلاف کا اتنا ہی رول ہو تا ہے …….راہل بابا کو جب دیکھئے وہ مودی جی کی مخالفت کرتے رہتے ہیں ‘ برا بھلا کہتے رہتے ہیں …….اور بار بار کہتے ہیں ……. یہ کہتے کہتے اب ان کی شبینہ حزب اختلاف کے لیڈر کے طور کم اور مودی مخالف کے طور زیادہ بن گئی ہے …….لیکن یہ ان کی کامیابی نہیں ہو سکتی ہے…….صرف یہ ایک بات انہیں کامیاب نہیں بنا سکتی ہے اور……. اور اسی لئے یہ کامیاب نہیں ہو رہے ہیں ۔راہل بابا خود کو وزیر اعظم مودی کا متبادل کے طور پر پیش کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوئے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی ناکامی ہے ……. یا کامیاب ہونے میں سب سے بڑی وجہ یا رکاوٹ ۔ کامیاب ہو نے کیلئے بی جے پی یا مودی جی کی دن رات اور رات دن مخالفت کرنا ضروری نہیں ہے …….راہل بابا جتنی توانائی اس ایک نکتے ‘ اس ایک بات پر صرف کررہے ہیں اگر یہ جناب اس کی نصف ہی خود کو مودی جی کے متبادل کے طور پر پیش کرنے پر صرف کریں تو ……. تو اللہ میاں کی قسم اپوزیشن میں یہ بحث ختم ہو جائےگی اور ہمیشہ کیلئے ہو جائے گی کہ ……. کہ انڈیا بلاک کی قیادت کس کو کرنی چاہئے اور وزیر اعلیٰ صاحب! ہو سکے تو ایہ ایک بات آپ راہل بابا کو سمجھائیے۔ ہے نا؟




