جموں: جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو سری نگر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد، ڈاگ بائٹ واقعات اور شہریوں میں پیدا ہونے والی بے چینی کا معاملہ اس وقت نمایاں موضوع بن گیا جب رکن اسمبلی سلمان ساگر نے اس سنگین مسئلے کے حوالے سے جامع جواب طلب کیا۔
حکومت نے تسلیم کیا کہ شہر کے تقریباً تمام علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملے شہریوں خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن نے آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر نس بندی، ویکسینیشن، پناہ گاہوں کی تعمیر اور عوامی بیداری پروگرام شروع کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سری نگر میں اس وقت تین اینیمل برتھ کنٹرول سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ ان مراکز میں مجموعی طور پر۱۸۲کینلز فعال ہیں، جن میں شالیمار، راولپورہ اور المنصور آلوچی باغ ہہامہ کے مراکز شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال۲۰۲۳سے ستمبر۲۰۲۵تک۱۵ہزار۲۶۶آوارہ کتوں کی نس بندی کی گئی، جبکہ اسی مدت میں۱۵ہزار۷۲۵ کتوں کو ریبیز کے خلاف ویکسین دی گئی۔ سال۲۰۲۳میں۶ہزار۹۶۴ کتوں کی نس بندی کی گئی‘۲۰۲۴میں یہ تعداد بڑھ کر۷ہزار۳۶۷تک پہنچ گئی، جبکہ۲۰۲۵میں اب تک۹۳۵کتوں کی نس بندی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ویکسینیشن کے اعداد و شمار بھی اسی تناسب سے بڑھے، جہاں۲۰۲۳میں۷ہزار۱۶۰‘
سرکاری اعداد و شمار میں ڈاگ بائٹ کے واقعات میں معمولی کمی سامنے آئی ہے۔ سال۲۰۲۴۔۲۵ میں سری نگر میں۵ہزار۱۳۵ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سال۲۰۲۵۔۲۶کے آٹھ ماہ میں۴ہزار۸۹۰کیسز ریکارڈ کیے گئے۔
حکومت نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار مجموعی اینٹی ریبیز ویکسین کی فراہمی پر مبنی ہیں اور ان میں پالتو کتوں، بلیوں اور بندروں کے کیس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
محکمہ نے بتایا کہ تمام اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبیولن کا مناسب ذخیرہ موجود ہے تاکہ متاثرین کو فوری علاج مل سکے۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں میڈیا مہم، عوامی اعلانات، جِنگلز، پوسٹرز اور مذہبی مقامات پر آگاہی پروگرام کے ذریعے شہریوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ صرف جانوروں تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑا شہری انتظامی چیلنج ہے، جس کے لیے طویل المدتی اور مربوط حکمتِ عملی پر کام تیزی سے جاری ہے۔










