جموں:سری نگر اور جموں میں مسلسل ٹریفک جام، بڑھتی ہوئی بھیڑ، ناکافی پارکنگ اور مسدود راستوں کے باعث عوامی مشکلات میں شدید اضافہ ہونے پر اسمبلی میں اُٹھائے گئے سوال کے جواب میں حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ دونوں شہروں میں ٹریفک جام ایک بڑا عوامی مسئلہ بن چکا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد بڑے اقدامات مختلف محکموں کے ذریعے عمل میں لائے جا رہے ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ سری نگر میں اس وقت۶۱ مقامات پر ٹریفک سگنل مکمل طور پر فعال کیے جا چکے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی پر مبنی انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ٹریفک کی ریئل ٹائم نگرانی اور خلاف ورزیوں کی ریکارڈنگ کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ۲۳۲۲ آف اسٹریٹ اور۱۸۰۴آن اسٹریٹ پارکنگ سلاٹس کام کر رہے ہیں۔
حکومت نے کہا کہ شہر کی بھیڑ کم کرنے کے لیے بنائے گئے ڈی پی آرز اس وقت ملٹی ڈسپلنری کمیٹی کے زیرِ غور ہیں۔
جموں میں بھی حکومت نے ٹریفک نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ شہر میں آئی ٹی قائم کرکے ٹریفک کی خودکار نگرانی شروع کی گئی ہے۔ جموں میں ملٹی لیول کار پارکنگ کے تحت بڑے پارکنگ کمپلیکس فعال کیے گئے ہیں۔
ٹریفک جام کی بنیادی وجوہات جیسے تجاوزات، ناکافی پارکنگ، پرانے سڑک ڈیزائن، متبادل راستوں کی عدم موجودگی اور بڑھتا ہوا وہیکل لوڈ کے بارے میں حکومت نے اعتراف کیا کہ یہ تمام عوامل صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔
اس کے حل کے طور پر سرینگر اور جموں کیلئے ایک ایک سوالیکٹرک بسوں پر مشتمل بیڑا پی ایم ای بس سیوا کے تحت شامل کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے، جس سے نجی گاڑیوں پر انحصار کم ہونے کی امید ہے۔
جموں اسمارٹ سٹی لمیٹڈ اور میونسپل کارپوریشن کے اشتراک سے نئے پانچ ملٹی لیول پارکنگ پروجیکٹس بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں جیول، ایس ایم جی ایس، مبارک منڈی، پریڈ اور چندر باغ شامل ہیں جن کی مجموعی گنجائش۱۰۵۰گاڑیاں ہوگی۔
البتہ سرکار نے واضح کیا کہ نور باغ سے صورہ اور پھر نالہ مار کے ذریعے ایم اے روڈ تک مجوزہ فلائی اوور یا متبادل سڑک کی تعمیر اس وقت حکومتی منصوبوں میں شامل نہیں ہے۔










